قابلیت اور مستعدی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۷
قابلیت اور مستعدی
راجہ مہندر پرتاپ (۱۸۸۶ - ۱۹۷۹) ہندوستان کے ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے روس جاکر ولادیمیر لینن (۱۸۷۰ - ۱۹۲۴) سے ملاقات کی تھی۔ وہ ۱۹۱۹ء میں آزادی پسندوں کے ایک وفد کے ساتھ لینن سے ملے تھے۔ وہ جب اشتراکی روس کے پہلے حکمراں کے کمرے میں داخل ہوئے تو لینن کھڑا ہو گیا۔ کمرے کے ایک گوشہ سے وہ خود ہی ایک چھوٹی آرام کرسی اٹھاکر لایا۔ راجہ مہندر پرتاپ کہتے ہیں کہ میں آرام کرسی پر بیٹھا اور میرے ساتھ قریب کے ایک چھوٹے صوفہ پر لینن بیٹھ گیا۔ لینن کا پہلا جملہ یہ تھا:
In which language should I speak ; English, German, French or Russian میں کس زبان میں بولوں۔ انگریزی میں، جرمن میں، فرانسیسی میں یا روسی میں۔ بالآخر طے ہوا کہ انگریزی زبان میں گفتگو ہو۔ راجہ مہندر پرتاپ نے اپنی ایک کتاب لینن کو پیش کی۔ اس کتاب کا نام تھا ـــ پریم دھرم The Religion of Love. لینن نے کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی فوراً کہا: ”میں اس کتاب کو پڑھ چکا ہوں“ راجہ مہندر پرتاپ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ لینن کو آخر یہ کتاب کہاں سے ملی۔ پوچھنے پر لینن نے بتایا کہ پچھلے دن شام کو جب آپ میرے سکریٹری سے ملاقات کا وقت مقرر کرنے کے لئے ملے تھے تو آپ نے سکریٹری کو اس کتاب کا ایک نسخہ دیا تھا۔ سکریٹری نے آپ کا تعارف کرتے ہوئے یہ کتاب مجھے دکھائی۔ میں نے کتاب اس سے لے لی اور رات ہی کو اسے پڑھ ڈالا تاکہ کل صبح میں جس شخص سے ملنے والا ہوں، اس کے خیالات سے واقف ہو جاؤں۔ “ لینن جدید روس کا بانی ہے۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں والا آدمی تھا۔ اوپر کے واقعہ سے اس کی دو خصوصیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک قابلیت، دوسرے مستعدی۔ اس نے تعلیم اور مطالعہ میں اتنی محنت کی تھی کہ وہ چار مختلف زبانیں جانتا تھا اور بیک وقت چاروں زبانوں میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسی کے ساتھ اس کی مستعدی کا عالم یہ تھا کہ دنیا کا انتہائی مصروف حکمراں ہونے کے باوجود ایک غیر معروف ہندوستانی کی کتاب اس نے راتوں رات محض اس لئے پڑھ ڈالی کہ کل کے دن وہ جس سے ملنے والا ہے اس کے خیالات کا اس کو پیشگی اندازہ ہو جائے۔ اس نے اپنی فطری صلاحیتوں کو بھر پور طور پر بروئے کار لانے کی کوشش کی اور اسی کے ساتھ عمل کے مواقع پر بھر پور عمل کیا، وہ دنیا کا ایک کامیاب لیڈر بن گیا۔
اسلام کی خدمت کا میدان ہو یا غیر اسلام کی خدمت کا، وہی لوگ دنیا میں کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔ جو ان دو خصوصیات کا ثبوت دیں، ایک طرف وہ وقت کے مطابق مکمل علمی قابلیت رکھتے ہوں۔ دوسرے وہ اپنی کارکردگی میں پوری طرح مستعدی کا ثبوت دیں۔ قابلیت اور مستعدی کے ان ضروری اوصاف کے بغیر نہ اسلام کا کوئی کام کیا جا سکتا ہے اور نہ غیر اسلام کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues