Al-Risala · January 1982 · page 8

اپنے خلاف

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۸

اپنے خلاف

۱۹۷۱ میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اور پارلیمینٹری لبرل پارٹی کے صدر مسٹر جان گارٹن تھے۔ پارٹی میں ان کے خلاف شکایت پیدا ہوئی ۔ اس کے بعد پارٹی کی پارلیمینٹری باڈی کی میٹنگ ہوئی جو قاعدہ کے مطابق انھیں کی صدارت میں تھی ۔ میٹنگ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش ہوئی ۔ اس وقت حاضر ممبران ۶۶ تھے۔ ووٹ جب لئے گئے تو دونوں طرف ۳۳ ، ۳۳ ووٹ پڑے یعنی تحریک کے موافق اور مخالف دونوں برابر ہو گئے ۔ اب فیصلہ صدر کے ایک زائد ووٹ سے ہونا تھا۔ صدر نے اپنا زائد ووٹ استعمال کیا۔ مگر خود اپنے خلاف ۔ اس طرح انھوں نے خود اپنے ہی ووٹ سے شکست کھائی ۔ اس کے بعد وہ پارٹی کی صدارت سے علیحدہ ہو گئے اور کہا : جب ممبران کی اتنی بڑی تعداد صدر کے خلاف ہے تو صدر ، صدر باقی رہنے کے قابل نہیں ۔ (الجمیعیته ویکلی ۲۰ جولائی ۱۹۷۳)

۲ ۔ انیسویں صدی کے وسط کی بات ہے ۔ پھلوارى شریف (بہار) میں دو رئیس رہتے تھے۔ ایک کا نام قاضی غلام امام اور دوسرے کا قاضی مخدوم عالم تھا۔ دونوں رشتہ دار تھے۔ کسی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور مقدمہ بازی کی نوبت آگئی ۔ مخدوم عالم سرکاری ملازمت میں تھے۔ اسی دوران ان کا تبادلہ دور کے مقام پر ہو گیا جہاں سے پٹنہ کی عدالت میں تاریخوں پر حاضری سخت مشکل تھی۔ انھوں نے چاہا کہ اپنے مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی کو مقرر کر دیں۔ کافی سوچنے کے بعد جب کوئی موزوں آدمی سمجھ میں نہ آیا تو وہ اپنے فریق مخالف قاضی غلام امام کے پاس گئے اور کہا کہ میں تبدیل ہو کر ایسی جگہ جا رہا ہوں کہ مقدمہ کی پیروی خود نہیں کر سکتا۔ یہ تمام کا غذات آپ کے حوالے ہیں۔ اب آپ ہی میری طرف سے مقدمہ کو دیکھیں ۔ یہ کہہ کر انھوں نے قاضی غلام امام کو اپنے مقدمہ کے کاغذات دئے اور سفر پر روانہ ہو گئے ۔

قاضی غلام امام کے لئے اس اعتماد کو مجروح کرنا نا ممکن تھا جو ان کے فریق نے ان پر کیا تھا۔ انھوں نے مخدوم عالم کے مقدمہ کی پیروی کا کام اپنے ذمے لے لیا اور خود اپنے کاغذات کسی دوسرے کے حوالے کر دئے۔ اب صورت یہ ہوئی کہ قاضی غلام امام کے اپنے مقدمہ کی پیروی تو دوسرا شخص کر رہا ہے اور وہ خود اپنے فریق مخالف قاضی مخدوم امام کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور یہ سب مصنوعی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود ہار گئے اور ان کے مخالف قاضی مخدوم عالم جیت گئے (حسب روایت جعفر شاہ پھلواری مطبوعہ زندگی ستمبر ۱۹۸۰)

یہ بہادری اور اعلیٰ ظرفی کی بات ہے کہ آدمی اصول کے آگے جھک جائے ، نہ کہ وہ اصول کو خود اپنے آگے جھکائے ۔ وہ نقصان اور فائدہ اور عزت اور بے عزتی کے خیالات سے اوپر اٹھ کر اصول کے تقاضوں کو اپنائے ۔ اسی طرح یہ آدمی کی بہادری اور اعلیٰ ظرفی ہے کہ اگر اس کا مخالف بھی اس کے اوپر اعتماد کر لے تو وہ اس کے اعتماد کو مجروح نہ کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page