Al-Risala · February 1982 · page 10

عہدہ نہ ملنے پر

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۰

عہدہ نہ ملنے پر

امام شافعی ۱۹۸ھ میں مصر آئے اور وہاں چار سال قیام کیا۔ اس زمانہ میں جو لوگ ان کے شاگرد ہوئے ان میں یوسف بن یحییٰ بویطی اور ابن عبد الحكم بھی تھے۔ امام شافعی کے انتقال کے بعد یہ سوال ہوا کہ مصر میں ان کے حلقہ درس کا مسند نشین اور ان کا قائم مقام کون ہو۔ امام شافعی اپنے تمام شاگردوں میں یوسف بن یحییٰ بویطی کو زیادہ مانتے تھے۔ بلکہ ان کو اپنی جانشینی کے لئے نام زد بھی کر چکے تھے۔ تاہم امام شافعی کے انتقال کے بعد جب یوسف بن یحییٰ بویطی نے امام شافعی کی مسند پر بیٹھنا چاہا تو ابن عبد الحکم نے دعویٰ کر دیا کہ اس مسند کا زیادہ حق دار میں ہوں ۔

اس وقت مصر میں امام شافعی کے مکی شاگرد امام حمیدی موجود تھے۔ انھوں نے بویطی کے حق میں فیصلہ دیا۔ امام حمیدی نے کہا : امام شافعی نے مجھ سے کہا تھا کہ میری مجلس کا حق دار بویطی سے زیادہ کوئی نہیں اور نہ میرے ساتھیوں میں بویطی سے زیادہ کوئی صاحب علم ہے۔ ابن عبد الحکم نے یہ سن کر امام حمیدی سے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو۔ امام حمیدی نے جواب دیا : جھوٹ بات تم نے کہی، تمھارے باپ نے کہی، تمھاری ماں نے کہی (کذبت انت وابوك وامك)

ابن عبد الحکم اس بات پر سخت ناراض ہوئے ۔ وہ اس سے پہلے اپنے باپ کے مسلک کے مطابق مالکی مسلک رکھتے تھے۔ پھر شافعی مسلک اختیار کر لیا تھا ۔ اس واقعہ کا اثر ان کے اوپر اتنا زیادہ ہوا کہ انھوں نے شافعی مسلک چھوڑ دیا اور دوبارہ مالکی مسلک اختیار کر لیا (طبقات الشافعیۃ الکبری) ابن عبد الحکم یہ چاہتے تھے کہ شافعی مسلک کی مسند درس پر بیٹھیں ۔ مگر جب ان کو درس کی مسند نہ ملی تو انھوں نے خود اپنے لئے بھی اس مسلک کو پسند نہ کیا جس کے لئے وہ دوسروں کے سامنے نمائندہ بننے پر اصرار کر رہے تھے۔ یہی اکثر لوگوں کا حال ہے ۔ وہ اسلام یا کسی ادارہ کے حامی بن کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ مگر حقیقتاً ان کی ساری دل چسپی اس اسلام یا اس اسلامی ادارہ سے ہوتی ہے جو انھیں ایک شان دار اسٹیج پر بیٹھنے کا موقع دے، جو ان کے لئے عوام کے درمیان ایک امتیازی سند فراہم کر رہا ہو۔ اگر شاندار اسٹیج نہ ملے تو ایسے اسلام کی خدمت کرنے سے انھیں کوئی دلچسپی نہ ہوگی ۔ ایک شخص صدارت کی کرسی سے یہ تقریر کرتا ہوا سنائی دے گا کہ اس عظیم مقصد کے لئے چپراسی کی حیثیت سے خدمت کرنا بھی میں اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں ۔ لیکن اگر وہ اپنے کو صدارت کی کرسی پر بیٹھا ہوا نہ پائے تو اس وقت اس مقصد کے میدان میں اس کے لئے کرنے کا کوئی کام نہ ہوگا۔ اسلام کی صدارت کرنے کے لئے ہر آدمی بے قرار ہے مگر اسلام کی خدمت کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page