Al-Risala · February 1982 · page 11

اسلام کا فیضان

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۱

اسلام کا فیضان

محمد اسد صاحب (سابق نام لیو پولڈ) پولینڈ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔ اپنے قبول اسلام کی داستان انھوں نے بہت دلچسپ انداز میں اپنی ایک کتاب میں لکھی ہے جس کا نام ہے ”روڈ ٹو مکہ “ وہ اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں :

۱۹۲۴ء میں ایک عربی اخبار کے نمائندہ کی حیثیت سے شرقِ اوسط کے دورہ پر روانہ ہوا۔ میں مصری علاقہ میں ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ میرے ڈبہ میں میرے علاوہ دو مسافر اور تھے۔ ایک اسکندریہ کا یونانی تاجر، دوسرا ایک مصری کاشتکار۔ گفتگو کے دوران یونانی تاجر نے کہا: اسلامی شریعت عادلانہ شریعت نہیں۔ مسلمان اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں کہ اسلام جب مسلمان مردوں کو عیسائی اور یہودی عورتوں سے نکاح کی اجازت دیتا ہے تو وہ مسلمان عورتوں کو اس کی اجازت کیوں نہیں دیتا کہ وہ بھی عیسائی اور یہودی مردوں سے نکاح کر سکیں۔ کیا ایسے قانون کو انصاف کا قانون کہا جا سکتا ہے۔

مصری کاشت کار فوراً بولا : میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اسلامی شریعت نے ایسا قانون کیوں بنایا ہے، ہم مسلمان حضرت مسیح کو حضرت ابراہیم اور دوسرے رسولوں کی طرح خدا کا رسول مانتے ہیں۔ ان کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جس طرح تمام رسولوں کی کرتے ہیں، اگر کوئی یہودی یا عیسائی لڑکی ایک مسلمان سے نکاح کرتی ہے تو اس کو اس بات کا اطمینان رہتا ہے کہ اس کے نئے گھر میں اس کے مقدس بزرگوں کا نام عزت کے ساتھ لیا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر کوئی مسلمان لڑکی کسی یہودی یا عیسائی مرد سے شادی کرے تو اس کو بجا طور پر اس کا اندیشہ رہے گا کہ جس ہستی کو وہ خدا کا رسول مانتی ہے، ممکن ہے اس کو اس کی سسرال میں برے ناموں سے یاد کیا جائے۔ ایسی صورت میں کیا آپ اس کو انصاف کہیں گے کہ ایک عورت کو مستقل طور پر ایسے ماحول میں ڈال دیا جائے جہاں وہ مسلسل اہانت اور اذیت برداشت کرنے پر مجبور ہو۔

یہ مصری مسلمان لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا۔ اس کے باوجود اس نے ایک تعلیم یافتہ شخص کے سوال کا ایسا جواب دیا جس کے بعد وہ بالکل خاموش ہو گیا۔

اسلام دین فطرت ہے۔ وہ زندگی کے تمام تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس میں اور دوسری حقیقتوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ جب کوئی شخص اسلام کو پاتا ہے تو گویا وہ تمام حقائق کا سرا پا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ذہن ہر سوال کا ایسا جواب پا لیتا ہے جس کا توڑ کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔ اس کو ایسا نظریہ مل جاتا ہے جس پر وہ کسی تضاد کے بغیر عمل کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page