جواہرات اس کی بھوک نہ مٹا سکے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲
جواہرات اس کی بھوک نہ مٹا سکے
مستعصم باللہ عباسی دور کا آخری خلیفہ تھا جس نے بغداد میں حکومت کی۔ تاتاریوں کے سردار ہلاکو خاں کے ہاتھوں وہ ۶۵۶ھ میں ذلیل طریقہ سے مارا گیا۔ یہی وہ خلیفہ ہے جس کے زمانہ میں تاتاریوں نے مسلم سلطنت کو برباد کیا۔ انہوں نے اتنے مسلمان قتل کئے کہ دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے عظیم الشان شاہی کتب خانہ کی کتابیں جمع کیں اور دجلہ میں ڈال دیں تو کہا جاتا ہے کہ دجلہ کا پانی ان کتابوں کی سیاہی سے کالا ہوگیا اور عرصہ تک کالا رہا۔
معتصم باللہ کے پاس زر و جواہر کا زبردست خزانہ تھا مگر اس کو اس نے تہ خانوں میں بند کر رکھا تھا۔ اس نے اپنے شیعہ وزیر علقمی کے مشورہ پر اپنے فوجیوں کی تنخواہیں روک دیں تاکہ ملکی حاصل میں کمی کو پورا کیا جاسکے" اس کے بعد اس نے فوج کی بہت بڑی تعداد کی چھٹی کردی۔ عربوں کی بہادری اور فوج کی کثرت کی وجہ سے تاتاریوں کو بغداد کی طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ مگر علقمی، جو عباسی اقتدار کو ختم کرکے علوی اقتدار لانے کی خاطر تاتاریوں سے مل گیا تھا ، اس نے جب ہلاکو خاں کو فوج کی کمی کی خفیہ خبر دی تو اس کی ہمت ہوگئی اس نے بغداد پر حملہ کیا اور اس کے بعد اتنے ظالمانہ طریقہ پر اس کو ختم کیا کہ اس کی کوئی دوسری مثال شاید انسانی تاریخ میں نہیں ملے گی بغداد کی تباہی کے بعد خلیفہ مستعصم باللہ جیل خانہ میں بند کر دیا گیا۔ اس کو کھانا پانی بھی نہیں پہنچتا تھا۔ ایک روز بھوک پیاس سے بیتاب ہو کر خلیفہ نے ہلاکو کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ اس کے لئے کھانے پینے کا انتظام کردے۔ ہلاکو نے حکم دیا کہ خلیفہ کے محل سے جو بے شمار زر و جواہر حاصل ہوئے ہیں ان کا ایک طشت خلیفہ کے پاس لے جاؤ۔ خلیفہ نے جب زر و جواہر سے بھرا ہوا طشت دیکھا تو اس نے کہا : مجھے کھانے کی ضرورت ہے اور جواہرات کھائے نہیں جا سکتے (ان الجواھرلا تو کل) ہلاکو نے جواب دیا : جب زر و جواہر تمہاری بھوک نہیں مٹا سکتے تو تم نے کیوں نہ ایسا کیا کہ یہ جواہرات تم اپنی فوج کو دیتے اور ان کے ذریعہ اپنے ملک کے دفاع کا انتظام کرتے۔ اس کے بعد ہلاکو خاں نے حکم دیا کہ اس کو اسی بھوک پیاس کی حالت میں قتل کر دیا جائے ۔ چنانچہ وہ ذلت کے ساتھ مار ڈالا گیا۔
تاریخ میں اس طرح کے کتنے ہی واقعات ہیں جو انسان کو سبق دے رہے ہیں کہ وہ حرص اور حق تلفی کا طریقہ چھوڑ دے اور قناعت اور انصاف پسندی کا طریقہ اختیار کرے ۔ مگر تاریخ میں بہت کم ایسی مثالیں ملیں گی جب کہ انسان نے ان واقعات سے اپنے لئے کوئی سبق سیکھا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues