Al-Risala · February 1982 · page 14

شوق کافی ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۴

شوق کافی ہے

استاد یوسف دہلوی (م ۱۹۷۶ء) مشہور خوش نویس تھے۔ ان کو فن خطاطی پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار جلی خط کا مقابلہ ہوا ریت کے کنارے ریت کے میدان میں بہت سے خطاط جمع ہوئے۔ استاد یوسف آئے تو ان کے ہاتھ میں بانس کا ایک بڑا ٹکڑا تھا۔ انھوں نے بانس سے ریت کے اوپر لکھنا شروع کیا۔ الف سے ش تک پہنچے تھے کہ تقریباً ایک فرلانگ کا فاصلہ ہو گیا۔ لوگوں نے کہا کہ بس کیجیے۔ استاد یوسف نے کہا: میں نے جو لکھا ہے اس میں رنگ بھر دو اور پھر ہوائی جہاز سے چھوٹے سائز میں ان کا فوٹو لے لو۔ مجھے یقین ہے کہ فوٹو میں وہی خط رہے گا جو میرا اصل خط ہے۔ اس کے بعد کسی اور کو اپنا فن پیش کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے گئے تھے۔ وہاں شاہ سعود کی آمد پر ان کو ایک محراب کا مضمون لکھنے کے لئے دیا گیا۔ استقبال کی تیاریوں کا چشم خود معائنہ کرنے کے لئے گورنر جنرل آئے۔ اس دوران انھوں نے استاد یوسف کا لکھا ہوا محراب بھی دیکھا۔ اس کے شان خط کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کس خطاط نے لکھا ہے ۔ چنانچہ استاد یوسف کو بلایا گیا۔ گورنر جنرل نے ان کے کام کی تعریف کی اور پوچھا کہ اس کو لکھنے میں آپ کا کتنا وقت لگا۔ استاد یوسف نے کہا کہ سات دن۔ گورنر جنرل نے فوراً اپنے سیکریٹری کو حکم دیا کہ استاد کو ان کی خدمت کے اعتراف میں سات ہزار روپے پیش کرو۔ چنانچہ اسی وقت ان کو اتنی رقم کا چیک دے دیا گیا۔

استاد یوسف سے ایک شخص نے پوچھا کہ خوش نویسی کا فن آپ نے کس استاد سے سیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی سے نہے۔ ان کے والد خود ایک مشہور خوش نویس تھے۔ مگر انھوں نے اپنے والد کی شاگردی بھی نہیں کی۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میں نے خوش نویسی کا فن لال قلعہ سے سیکھا ہے۔ لال قلعہ میں مغل دور کے استادوں کی وصلیان (تختیاں) رکھی ہوئی ہیں۔ ان تختیوں میں قطعات لکھے ہوئے ہیں جو فن خطاطی کے شاہکار نمونے ہیں۔ استاد یوسف دس سال تک برابر یہ کرتے رہے کہ لال قلعہ جا کر ان تختیوں کو دیکھتے۔ ہر روز ایک قطعہ اپنے ذہن میں بٹھا کر واپس آتے۔ اس کو اپنے قلم سے بار بار لکھتے۔ اور پھر اگلے دن اپنا لکھا ہوا کا غذ لے کر لال قلعہ جاتے۔ وہاں کی محفوظ تختی سے اپنے لکھے ہوئے کو ملاتے اور اس طرح مقابلہ کر کے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے۔ اس طرح مسلسل دس سال تک ہر روز لال قلعہ کی قطعات کی تختیوں سے وہ خود اپنی اصلاح لیتے رہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر مشق کرتے رہے۔ یہی دس سالہ جدوجهد تھی جس نے انھیں استاد یوسف بنا دیا۔

اگر آدمی کے اندر شوق ہو تو نہ پیسہ کی ضرورت ہے اور نہ استاد کی، نہ کسی اور چیز کی۔ اس کا شوق ہی اس کے لئے ہر چیز کا بدل بن جائے گا ۔ وہ بغیر کسی چیز کے سب چیز حاصل کرلے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page