Al-Risala · February 1982 · page 15

افسوس نہ کیجئے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۵

افسوس نہ کیجئے

امریکہ کے ایک نفسیاتی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس چیز میں اپنا وقت برباد کرتا ہے وہ افسوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ ماضی کی تلخ یادوں میں گھرے رہتے ہیں۔ وہ یہ سوچ سوچ کر کڑھتے رہتے ہیں کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو میرا کام بگڑ گیا وہ نہ بگڑتا۔ اگر میں نے یہ تدبیر کی ہوتی تو میں نقصان سے بچ جاتا۔ وغیرہ اس قسم کے احساسات میں جینا اپنے وقت اور قوتوں کو ضائع کرنا ہے گزرا ہوا موقع دوبارہ واپس نہیں آتا، پھر اس کا افسوس کیوں کیا جائے۔ مذکورہ ڈاکٹر کے الفاظ میں بہترین بات یہ ہے کہ ہر ایسے موقع پر آپ یہ کہیں کہ اگلی بار میں اس کام کو دوسرے ڈھنگ سے کروں گا :

Next time I'll do it differently

جب آپ ایسا کریں گے تو آپ گزرے ہوئے معاملے کو بھول جائیں گے۔ آپ کی توجہ جو اس سے پہلے ماضی کی بے فائدہ یاد میں لگی ہوئی تھی ، وہ مستقبل کے متعلق غور و فکر اور منصوبہ بندی میں لگ جائے گی ( ریڈر ز ڈائجسٹ ستمبر ۱۹۸۱ )

اس کا نقد فائدہ یہ حاصل ہو گا کہ آپ افسوس اور کڑھن میں اپنی قوتیں ضائع کرنے سے بچ جائیں گے۔ جو چیز اس سے پہلے آپ کے لئے صرف تلخ یاد بنی ہوئی تھی ، وہ آپ کے لئے ایک قیمتی تجربہ کی حیثیت اختیار کرلے گی ، ایک ایسا تجربہ جس میں مستقبل کے لئے سبق ہے ، جس میں آئندہ کے لئے نئی روشنی ہے۔

افسوس یا غم بیشتر حالات میں یا ماضی کے لئے ہوتے ہیں یا مستقبل کے لئے۔ آدمی یا تو کسی گزرے ہوئے نقصان کا افسوس کرتا رہتا ہے یا ایسے واقعہ کا غم جس کے متعلق اسے اندیشہ ہو کہ وہ آئندہ پیش آئے گا۔ مگر یہ دونوں ہی غیر ضروری ہیں۔ جو نقصان ہو چکا وہ ہو چکا۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ پھر اس کا غم کرنے سے کیا فائدہ ۔ اور جس واقعہ کا اندیشہ ہے وہ بہر حال ایک امکانی چیز ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جس خطرہ کا اندیشہ کرے وہ عین اس کے اندیشہ کے مطابق پیش آجائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page