اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸
اپنا احتساب
کھیت میں جب فصل بوئی جاتی ہے تو فصل کے ساتھ طرح طرح کے گھاس پھوس بھی اگتے ہیں۔ گیہوں کے ہر پودے کے ساتھ ایک خود رو گھاس بھی نکلتی ہے اور سرسوں کے ہر درخت کے ساتھ ایک نکما پودا بھی بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ یہ اپنے آپ نکلنے والے گھاس پھوس فصل کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں، وہ کھیت کے پانی اور کھاد میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ وہ اصلی فصل کو بھر پور طور پر بڑھنے نہیں دیتے۔ کسان اگر ان خود رو پودوں کو بڑھنے کے لئے چھوڑ دے تو وہ ساری فصل کو خراب کر دیں۔ کھیت میں دانہ ڈال کر کسان نے جو امیدیں قائم کی ہیں وہ بھی پوری نہ ہوں۔ اس لئے کسان یہ کرتا ہے کہ وہ کھیت میں نلائی (Weeding) کا عمل کرتا ہے۔ وہ ایک ایک خود رو پودے کو نکالتا ہے تا کہ کھیت کو ان سے صاف کر دے اور فصل کو بڑھنے کا پورا موقع ملے۔ ہر کسان جانتا ہے کہ کھیت میں دانہ ڈالنا ہی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فصل کے ساتھ اگنے والی دوسری گھاسوں کو چن چن کر نکال دیا جائے، ورنہ کھیت سے مطلوبہ فصل حاصل نہیں ہو سکتی۔
یہ نلائی کا عمل جو کھیت میں کیا جاتا ہے یہی انسانی زندگی میں بھی مطلوب ہے اور اس کا شرعی نام محاسبہ ہے۔ انسان کا معاملہ بھی یہی ہے کہ اس کو جب کوئی خوبی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ ایک نکمی گھاس" بھی اس کے اندر سے اگنا شروع ہوتی ہے۔ اس نکمی گھاس کو جاننا اور اس کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کا انجام وہی ہو گا جو بغیر نلائی کئے ہوئے کھیت کا۔ کسی کو اسباب و وسائل ہاتھ آ جائیں تو اس کے اندر بے جا خود اعتمادی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو گھمنڈ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح دولت کے ساتھ بخل، علم کے ساتھ فخر، مقبولیت کے ساتھ ریا اور سماجی عزت کے ساتھ نمائش کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ تمام چیزیں گویا خود رو گھاس ہیں جو کسی آدمی کی خوبیوں کو کھا جانے والی ہیں۔ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اس اعتبار سے اپنا نگراں بن جائے اور جب کبھی اپنے اندر کوئی "نکمی گھاس" اگتے ہوئے دیکھے تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دے۔ جو شخص اپنے اوپر محاسبہ کا عمل نہ کرے گا وہ یقینی طور پر اس دنیا میں برباد ہو جائے گا۔ وہ ایسا کھیت ہوگا جس کی فصل تباہ ہو گئی، وہ ایسا باغ ہوگا جس کی ساری بہار خزاں میں تبدیل ہو گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues