Al-Risala · February 1982 · page 19

اپنا احتساب

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۹

اور ان میں وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنہ میں نہ ڈالئے۔ سن لو، وہ تو فتنہ میں پڑچکے۔ اور بے شک جہنم منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اگر تمہیں کوئی اچھائی پیش آتی ہے تو ان کو دکھ ہوتا ہے اور اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور وہ خوش ہو کر لوٹتے ہیں۔ کہو، ہمیں صرف وہی چیز پہنچے گی جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ وہ ہمارا کارساز ہے اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ کہو تم ہمارے لئے صرف دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو۔ مگر ہم تمہارے حق میں اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تم پر عذاب بھیجے اہل طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ پس تم انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہیں ۵۲ - ۴۹ مدینہ میں ایک شخص جدبن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے لئے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ عملیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھئے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر ایسے مواقع پر عذر پیش کرنا بجائے خود فتنہ میں پڑنا ہے۔ کیونکہ نازک مواقع پر آدمی کے اندر دین کی خاطر فدا ہو جانے کا جذبہ بھڑکنا چاہئے نہ کہ عذرات تلاش کر کے پیچھے رہ جانے کا۔ پھر ایسے کسی عذر کو دینی اور اخلاقی رنگ دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیونکہ یہ بے علی پر فریب کاری کا اضافہ ہے۔

اس قسم کا مزاج حقیقۃ آدمی کے اندر اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز تر رکھتا ہے۔ خطرات کے موقع پر ایسے لوگ دین کی راہ میں آگے بڑھنے سے رکے رہتے ہیں۔ پھر جب سچے حق پرستوں کو ان کی غیر مصلحت اندیشانہ دینداری کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا کہ ہم نے اپنے لئے حفاظتی پہلو اختیار کر لیا تھا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ سچے حق پرست خطرات کا مقابلہ کریں اور اس میں انہیں کامیابی ہو تو ان لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایسا کوئی واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔

سچے اہل ایمان کے لئے اس دنیا میں ناکامی کا سوال نہیں۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ خدا ان سے راضی ہو اور یہ ہر حال میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ مومن پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے دل کی انابت کو بڑھاتی ہے۔ اگر اس کو کوئی سکھ ملتا ہے تو اس کے اندر احسان مندی کا جذبہ ابھرتا ہے اور وہ شکر کر کے خدا کی مزید عنایتوں کا مستحق بنتا ہے۔

تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں، بظاہر مومنین کا کلمہ ہے۔ مگر حقیقہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ان لوگوں سے تہدیدی انداز میں کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اپنی حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالانکہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انہیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمہارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمہارے جرم کو آخری حد تک ثابت کر کے تم کو دائمی طور پر رسوائی اور عذاب کے حوالے کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page