Al-Risala · February 1982 · page 33

اخلاق شعور

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳

اخلاق شعور

روی ناول نگار دوستوسکی (۱۸۸۱ء۔ ۱۸۲۱ء) کا ایک ناول ہے جس کا نام ہے جرم و سزا۔ اس کا ہیرو ایک بدخو، بد مزاج ، کر یہہ المنظر، لا ولد اور بوڑھی عورت کو اس لئے قتل کر دیتا ہے کہ اس کی روز افزوں مگر بے کار دولت کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ جب یہ واقعہ ہوتا ہے تو نہ صرف ناول کے قاری بلکہ ناول کے سارے کردار اسے مجرم قرار دیتے ہیں۔

بڑھیا کی دولت اس شخص کے لئے اتنی ہی مفید تھی جتنا کسی شیر کے لئے ہرن کا گوشت۔ شیر ایک ہرن کو مار کر اس کا خون پی جائے تو کسی کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی اور نہ اس کے لئے کوئی تعزیری قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ مگر اسی قسم کا فعل ایک انسان کرتا ہے تو ساری انسانیت چیخ اٹھتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس کو اس کے فعل کی پوری سزا دی جائے۔ صحیح اور غلط کی تقسیم صرف انسان کی نفسیات میں پائی جاتی ہے۔ دوسری تمام موجودات قانون فطرت یا جبلت کے تحت عمل کرتی ہیں، وہ اس قسم کے کسی فرق سے خالی ہیں۔

اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایک اخلاقی وجود ہے۔ وہ ہر فعل کو صحیح اور غلط کی تراز و پر تولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اخلاقی حدود کے اندر زندگی گزارے۔ جب کہ جانور اس قسم کا کوئی شعور نہیں رکھتے۔ جانوروں کے یہاں صرف مفید اور مضر کی تقسیم ہے نہ کہ صحیح اور غلط کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے ایک ایسے ضابطہ کی ضرورت ہے جس میں اس کے اخلاقی شعور کے مطابق صحیح اور غلط کو متعین کیا گیا ہو۔ جانوروں کو جو ضابطہ درکار ہے وہ ابتدا سے ان کی جبلت میں موجود ہوتا ہے س انسان اپنے ساتھ اپنا ضابطہ نہیں رکھتا۔ یہ خلا بتاتا ہے کہ انسان کے لئے ضرورت ہے کہ باہر سے اس کو ایک ضابطہ اخلاقی فراہم کیا جائے۔ "قانون" یہی ضابطہ اخلاق فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ مگر اس کا یہ حال ہے کہ پانچ ہزار برس کی بہترین کوششوں کے باوجود انسانی دماغ ابھی تک اپنے لئے قانون کی کوئی متفقہ بنیاد دریافت نہ کر سکا۔ کچھ لوگ اس ناکامی کو یہ حیثیت دیتے ہیں کہ ابھی انسان اپنی تلاش کے مرحلہ میں ہے۔ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ ٹاکوئی (Tocqueville) کے یہ الفاظ اسی قسم کے لوگوں کی ترجمانی کر رہے ہیں:

A new science of politics is indispensible to a new world (نئی دنیا کے لئے ایک نیا علم سیاست ضروری ہے) مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کی ناکامی تلاش کی ناکامی نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی چیز کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنی کوششوں سے پہنچ ہی نہیں سکتا۔ انسان کے اندر اخلاقی شعور ہونا مگر انسان کا خود سے اخلاقی قانون وضع نہ کر سکنا، نظام فطرت کا ایک خلا ہے۔ یہ خلا وحی کی ضرورت ثابت کرتا ہے۔ اگر ایک بار اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے بعد اسلام تک پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page