آپریشن
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴
آپریشن
فونکس (امریکہ) کے اسپتال میں ایک شخص نے داخلہ لیا۔ اس کے پیٹ میں نہایت سخت تکلیف تھی ۔ ڈاکٹروں نے اس کو آپریشن کا کیس قرار دیا۔ چنانچہ اس کے پیٹ کا آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ اس کے پیٹ میں ایک ہیرا اٹکا ہوا ہے۔ یہی ہیرا اس کے ناقابل برداشت درد کا سبب تھا۔ ہیرا اس کے پیٹ سے نکال کر الگ کیا گیا۔ اس ہیرے کے ساتھ اب بھی قیمت کا پرچہ لگا ہوا تھا۔ اس پرچہ پر لکھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۷۵۰۰ ڈالر ۔
فوراً پولیس طلب کی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران مریض نے بتایا کہ اس کو انعام میں یہ ہیرا ملا تھا اور غلطی سے وہ اس کے پیٹ میں چلا گیا۔ تاہم بہت جلد معلوم ہوگیا کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ شخص ایک بار ہیرے کی ایک دکان میں داخل ہوا اور وہاں ایک ہیرا چرا لیا۔ مگر جب وہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا تو دکان دار کو شبہ ہوا۔ اس نے آدمی کا پیچھا کیا۔ جب آدمی نے دیکھا کہ وہ پکڑا جانے والا ہے تو اس نے ہیرے کو جلدی سے منھ میں ڈالا اور نگل لیا۔ پولیس اس کی تلاش میں تھی مگر وہ ابھی تک پولیس کے ہاتھ نہیں آیا تھا اس کے بعد فوراً اس کو گرفتار کر لیا گیا (ہندوستان ٹائمس ۵ نومبر ۱۹۸۱ء)
ناجائز طور پر حاصل کیا ہوا ہیرا آدمی کے پیٹ میں ہضم نہ ہو سکا۔ وہ مجبور ہوگیا کہ چھپائے ہوئے ہیرے کو نکال کر باہر لائے اور خود اپنے جرم کا زندہ ثبوت بن جائے ۔ یہی معاملہ شدید تر صورت میں لوگوں کے ساتھ آخرت میں ہوگا ۔
دنیا میں آدمی ایک شخص کا حق دباتا ہے، وہ کسی کو وہ کلمہ اعتراف دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا جو از روئے واقعہ اسے دینا چاہئے۔ یہ سب کر کے بھی آدمی موجودہ دنیا میں کامیاب رہتا ہے۔ زور اور ہوشیاری کے ذریعہ وہ اپنے جرم کو چھپا لیتا ہے۔ مگر یہ صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی موت سے دوچار نہیں ہوتا۔ موت ہر آدمی کے لئے گویا قدرت کا آپریشن ہے جو اس کے اندر کو باہر کر دیتا ہے اور اس کے چھپے کو کھلا بنا دیتا ہے۔ جس طرح ہیرا آدمی کے پیٹ میں ہضم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ظلم اور بے انصافی کو بھی خدا کی یہ کائنات کبھی قبول نہیں کرتی ۔
آدمی پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدائی آپریشن اس کی حقیقت کو کھول دے اور اس کے لئے اپنے جرائم کے اقرار کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues