سب سے بڑا اندیشہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۹
چنانچہ اس نے پہاڑ کی چوٹی پر شاندار محل کھڑا کردیا اور اس میں زندگی گزارنے لگا۔ کسی نے سمجھا کہ دوا علاج سے موت سے بچنے کا راز ہے تو اس نے بہترین ڈاکٹروں اور طبیبوں کی فوج اپنے ساتھ لگادی۔ کسی کا خیال ہوا کہ وہ موت کا انکار کر کے موت کو ٹال سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ارادہ اور شعور کی پوری قوت کے ساتھ موت کا انکار کر دیا۔ کسی کا خیال ہوا کہ بہترین غذا میں ابدی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے چنانچہ اس نے دنیا بھر کی قیمتی غذائیں اپنے دستر خوان پر جمع کر دیں۔ کسی نے سمجھا کہ بیماروں سے دور رہ کر وہ موت سے بچ سکتا ہے تو اس نے سارے بیماروں کو اپنے سے اتنا دور کر دیا کہ قیاساً ان کی سانس سے نکلی ہوئی ہوا کا کوئی جزر اس کو چھونے نہ پائے۔ کسی نے سمجھا کہ سگریٹ اور شراب کو چھوڑ کر وہ موت سے بچ سکتا ہے تو اس نے سگریٹ اور شراب ہمیشہ کے لئے چھوڑ دی۔ کسی کی سمجھ میں آیا کہ وہ شادی نہ کر کے ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے تو اس نے تمام عمر شادی نہ کی اور عورتوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا۔
مگر کسی کی تدبیر نے کوئی کام نہ کیا اور موت اپنے وقت پر آکر رہی۔ اب تک کی تاریخ کا آخری فیصلہ یہ ہے کہ موت پر انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ موت انسانی زندگی کا ایک ایسا المیہ ہے جس کے مقابلے میں انسان بالکل بے بس ہے۔ موت نہ اپنا وقت بتاتی نہ ہم سے کچھ دریافت کرتی، وہ بالکل اچانک آتی ہے۔ اور جب آتی ہے تو کسی کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ اس کے چنگل سے اپنے کو نکال سکے۔ کوئی بھی علم، کوئی بھی طاقت، کوئی بھی ذریعہ ایسا نہیں ہے جو موت کے مقابلہ میں ذرہ برابر انسان کی کوئی مدد کر سکے۔ اس معاملہ میں فیصلہ کا سارا اختیار ایک فریق کو ہے دوسرے فریق کو کوئی اختیار نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موت کی آمد کو روکنے کی ساری باتیں احمقانہ ہیں۔ اصل بات سوچنے کی یہ نہیں ہے کہ موت کو کیسے روکیں ۔ بلکہ اصل بات سوچنے کی یہ ہے کہ موت کے بعد پیش آنے والے خطرہ سے کیسے اپنے آپ کو بچائیں۔ جب زلزلہ پیما آلہ خبر دے کہ زلزلہ آرہا ہے تو کوئی یہ سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتا کہ زلزلہ کو کیسے روکا جائے۔ بلکہ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ زلزلہ کے ممکن نتائج سے کس طرح اپنے کو محفوظ رکھے۔ کیونکہ زلزلہ جب آرہا ہے تو وہ بہرحال آکر رہے گا، ہم اس کی آمد کو روک نہیں سکتے، ہمارے بس میں جو چیز ہے وہ صرف یہ کہ اپنے کو اس کے خطرات سے بچانے کی فکر کریں ، اسی طرح ہزاروں برس کے تجربات نے بتایا ہے کہ موت بہرحال آتی ہے اور ہر شخص کے لئے آتی ہے۔ اب ہم جو چیز کر سکتے ہیں وہ صرف یہ کہ موت کا اس طرح استقبال کریں کہ وہ ہمارے لئے کسی نئی مصیبت میں پڑنے کا سبب نہ بن جائے۔
یہاں ”موت کے بعد کیا ہے“ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ بلا شبہ موت کے اس پار دیکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ مگر موت ہی ایک ایسا واقعہ نہیں ہے جس کے اس پار داخل ہونے سے پہلے آدمی نہ دیکھ سکتا ہؤ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues