سب سے بڑا اندیشہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۸
معلوم جس کے ذریعہ وہ موت سے بچ سکے۔ یا ایک دن کے لئے بھی موت کو ٹال سکے۔ وہ ہر حال میں، ہر جگہ اور ہر شخص کو آلتی ہے اور مجبور کرتی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے۔ ہر اندیشہ سے آدمی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی کے پاس ذریعہ آمدنی نہ ہو یا کم ہو اور اندیشہ ہو کہ اس کا کام نہیں چلے گا تو وہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی کمزور ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ حاصل کرلے جو ضرورت کے وقت اس کی مدد کر سکتے ہوں۔ غرض ہر اندیشہ سے بچنے کا طریقہ ہے اور اس طریقہ کو اختیار کر کے آدمی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر کیا موت کے اندیشے سے بچنے کا بھی کوئی طریقہ ہے۔
لوگوں نے طرح طرح سے موت کے اندیشہ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ کے ایک شخص سینفرڈ بینٹ (Sanford Bannet) کو خیال ہوا کہ بڑھاپا موت کا اصل سبب ہے۔ اس لئے بڑھاپے کو روکو۔ اس نے اس موضوع پر زبردست مطالعہ کیا۔ مطالعہ سے معلوم ہوا کہ بڑھاپے کا اصل سبب ہے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہماری شریانوں اور وریدوں میں ایک فاسد ماوہ جمع ہونے لگتا ہے جس کو کولسٹرول (Cholestrol) کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہماری خون کی نالیوں کی قدرتی لچک ختم ہو کر ان میں سختی آجاتی ہے۔ اسی صورت حال کا دوسرا نام بڑھاپا ہے۔ چنانچہ یہ امریکی محقق اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر جسم کے عضلات پر تناؤ اور ڈھیس کا عمل کر کے شریانوں اور وریدوں میں جمع شدہ مادے کو نکال دیا جائے تو دوبارہ شباب کی واپسی ممکن ہے۔ اب اس نے اس مقصد کے لئے ورزش شروع کی۔ بلکہ ورزشیں ایجاد کیں اور ۲۵ سال تک وہ اپنے قبل از وقت بڑھاپے کو دوبارہ جوانی کی طرف لوٹانے کے لئے مسلسل کوشش کرتا رہا۔ اس کوشش کے شان دار نتائج کو اس نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے جس کا نام ہے" بڑھاپا اور اس کا سد باب"۔ اس کتاب میں مصنف کی دو تصویریں ہیں۔ ایک پچاس سال کی اور دوسری پچھتر سال کی یہ پچاس سالہ عمر کی تصویر ایک ایسے شخص کا منظر پیش کرتی ہے جس کے چہرے پر افسردگی طاری ہے اور ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں۔ وہ دیکھنے میں ایک بوڑھا شخص معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پچھتر سال کی عمر کی جو تصویر ہے اس میں اس شخص کی صورت اس طرح بدل گئی ہے کہ بالکل دوسرا تر و تازہ جوان بیٹھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ مگر وہ شخص جس نے چوتھائی صدی کی طویل جدوجہد کے بعد اپنے کو بڑھاپے سے نکال کر دوبارہ جوان بنا لیا تھا، عین اس "جوانی" کے عالم میں ایک روز اس طرح مر گیا کہ وہ سوچا بھی نہ سکا کہ اب اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ اسی طرح بہت سے ایسے بڑے بڑے لوگ بھی کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی، انھوں نے موت کے اندیشے سے بچنے کی تمام ممکن کوششیں کی ہیں۔ کسی نے سمجھا کہ اونچے محل میں رہ کر دہ موت سے بچ سکتا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues