Al-Risala · February 1982 · page 41

تخریبی سیاست کا انجام

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱

تخریبی سیاست کا انجام

عباسی خلیفہ مستنصر باللہ ۶۴۱ ھ میں فوت ہوا۔ یہ بہت نازک زمانہ تھا۔ چنگیز خاں کی قیادت میں تاتاریوں نے ماورا النہر سے لے کر بحر روم اور بحر اسود تک کے تمام ملکوں کو تاراج کر ڈالا تھا۔ تاہم عراق پر اب بھی عباسی خلیفہ کا قبضہ تھا اور تاتاریوں کے اوپر خلیفہ بغداد کا رعب اتنا زیادہ تھا کہ وہ عراق کی طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ حتیٰ کہ تاتاریوں کے مفتوحہ ممالک میں بدستور خلیفہ بغداد کا خطبہ مسجدوں میں پڑھا جاتا تھا۔

مستنصر باللہ کا ایک بھائی خفاجی نامی تھا جو بہت بہادر اور اولوالعزم تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر مجھ کو خلیفہ بنایا جائے تو میں دریائے جیحوں کے پار تک ان تاتاریوں کا نام ونشان مٹا دوں۔ مگر سلطنت کے درباری اتنے طاقت ور خلیفہ کو اپنے لئے مسئلہ سمجھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ اگر خفاجی کو تخت پر بٹھایا گیا تو وہ ہماری بات چلنے نہ دے گا۔ چنانچہ ۶۴۰ ھ میں مستنصر باللہ کا انتقال ہوا تو ارکانِ سلطنت نے خفاجی کو تخت پر بیٹھنے نہ دیا۔ انھوں نے مستنصر باللہ کے لڑکے ابو احمد عبداللہ کو خلافت کے لئے پسند کیا ۔ کیونکہ وہ بہت نرم اور سادہ لوح قسم کا آدمی تھا۔ اس کو نہایت آسانی سے اپنے موافق بنایا جاسکتا تھا۔ مستنصر باللہ کے بعد اس کا یہی بیٹا تخت پر بٹھا اور اس کو مستعصم باللہ کے نام سے پکارا گیا۔ اسی خلیفہ کے زمانہ میں تاتاریوں کی تباہی اپنی تکمیل تک پہنچی۔ وہ ذاتی طور پر اگرچہ دیندار اور متبع سنت تھا مگر وہ انسانوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہ رکھتا تھا۔ اس نے پہلی بنیادی غلطی یہ کی کہ موید الدین علقمی کو اپنا وزیر بنا دیا۔ علقمی ایک غالی شیعہ آدمی تھا۔ اس کے سینہ میں یہ آگ بھڑک رہی تھی کہ علویوں کے حق خلافت کو غصب کرنے والے عباسیوں کا خاتمہ کر دے۔ اور ان کی جگہ پر دوبارہ علوی خلافت قائم کرے۔ عباسیوں سے اس کا نفرت اور بغض اس کو اس انتہا تک لے گیا کہ وہ در پردہ تاتاریوں کا دوست بن گیا۔ عباسی سلطنت کو ختم کرنے کا کام وہ خود اپنی طاقت سے نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے منصوبہ بنایا کہ تاتاریوں کا سہارا لے کر پہلے اپنے "دشمن" کو ختم کرے اور اس کے بعد اپنی منشا کے مطابق علوی خاندان کے کسی فرد کو بغداد کے تخت پر بٹھائے۔

علقمی نے وزارت پانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ شیعوں کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ حکومت کے تمام شعبوں میں شیعوں کو کلیدی مقامات پر بیٹھا دیا۔ یہاں تک کہ حکومت پوری طرح علقمی کے ہاتھ میں آگئی۔ اب اس نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت یہ کوشش شروع کر دی کہ عباسیوں کا نام ونشان مٹا دے اور بغداد میں علویوں کی حکومت قائم کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page