تخریبی سیاست کا انجام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۲
کردے۔ خلیفہ محل کی مصنوعی دنیا میں رہتا تھا۔ نیز علقمى خلیفہ کے سامنے حد درجہ نیاز مند اور وفادار بن کر آتا تھا۔ اس لئے خلیفہ اس کی اندرونی سازشوں سے واقف نہ ہو سکا۔ تاہم ش کے بعض لوگ اس کے منصوبوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہوں نے خلیفہ سے مل کر اس کو مطلع کیا۔ مگر خلیفہ علقمی کی ظاہری وفاداریوں کی وجہ سے اس کے بارے میں اتنا خوش فہم تھا کہ اس نے ان لوگوں کی باتوں کو خود علقمی سے بیان کر دیا۔ اب علقمی نے اور بھی زیادہ اپنی وفاداری اور فرماں برداری ظاہر کر کے خلیفہ کو یقین دلا دیا کہ جن لوگوں نے خلیفہ سے اس قسم کی باتیں کہی ہیں وہ فتنہ پرور اور غدار ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں کی داروگیر شروع ہو گئی اور ان کے انجام کو دیکھ کر بقیہ لوگوں نے بھی اپنی زبانیں بند کر لیں۔
علقمی نے چنگیز خاں کے پوتے ہلاکو خاں سے خفیہ خط و کتابت شروع کی جس کی سلطنت خراسان تک پہنچ چکی تھی، علقمی کے ذہن میں نقشہ یہ تھا کہ ہلاکو خاں کے ساتھ "متحدہ محاذ" بنا کر عباسی خلافت کا خاتمہ کر دے اور اس کے بعد علوی خلافت کے قیام کے بارے میں اپنے منصوبہ کی تکمیل کرے ۔ تا ہم تاتاری حکمران پر عباسی خلیفہ کا اتنا دبدبہ تھا کہ وہ بغداد پر فوج کشی کرنے کے لئے راضی نہ ہوا۔ علقمی نے اصرار کیا تو اس نے کہا کہ جب تک میرے پاس کافی ضمانت نہ ہوگی میں بغداد پر اقدام نہیں کر سکتا۔ علقمی کے تخریبی ذہن نے ضمانت کی ایک تدبیر سوچ لی۔ اس نے خلیفہ کو یقین دلایا کہ ہمارے پاس فوج ضرورت سے زیادہ ہے۔ ملکی محاصل کا بڑا حصہ اس کے اوپر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس لئے خرچ کو کم کرنے کی صورت یہ ہے کہ فوج کی تعداد گھٹا دی جائے ۔ خلیفہ کی رضامندی لے کر علقمی نے فوج کے ایک بڑے حصہ کی چھٹی کر دی۔ کچھ فوجیوں کو بغداد سے دور دوسرے مقامات پر بھیج دیا اور خلیفہ سے یہ کہہ دیا کہ ان کو تاتاریوں کی روک تھام کے لئے سرحد پر بھیجا گیا ہے۔
علقمی کا ایک ساتھی خود ہلاکو خاں کے دربار میں موجود تھا۔ یہ نصیر الدین طوسی تھا۔ طوسی بھی علقمی کی طرح غالی شیعہ تھا اور علقمی کے منصوبہ میں پوری طرح شریک تھا۔ طوسی کی معرفت علقمی نے ہلاکو خاں کو پیغام بھیجا کہ بغداد کو میں نے فوجوں سے خالی کر دیا ہے۔ حربی سامان کا بھی بڑا حصہ باہر بھیج دیا ہے۔ یہ واقعہ ہلاکو خاں کی ضمانت طلبی کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ اُدھر طوسی نے ہلاکو خاں کو یقین دلایا کہ علم نجوم سے معلوم ہوتا ہے کہ بغداد کے اوپر آپ کا قبضہ بہت جلد ہونے والا ہے۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہلاکو خاں نے بغداد کا رخ کیا۔ پچاس روز تک بغداد کا محاصرہ جاری رہا۔ اس دوران دونوں طرف کی فوجوں میں کئی بار لڑائیاں ہوئیں۔ مگر علقمی ہر شہر کی تمام خبریں خفیہ طور پر ہلاکو خاں کو پہنچا دیتا تھا۔ اور اس طرح بغداد والوں کی ہر اس دفاعی کوشش کو ناکام بنا دیتا تھا جو وہ تاتاریوں کے خلاف کرنا چاہتے تھے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues