تخریبی سیاست کا انجام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳
جب محاصرہ بڑھا تو علقمی نے ایک فرضی کارروائی کر کے خلیفہ سے کہا کہ ہلاکو خاں آپ کو امان دینے پر راضی ہو گیا ہے بشرطیکہ آپ اس سے ملیں اور آئندہ کے لئے کوئی باعزت سمجھوتہ کر لیں ۔ خلیفہ علقمی کے کہنے میں آگیا اور علقمی کے ساتھ اپنے محل سے نکل کر ہلاکو خاں کے یہاں پہنچا۔ وہاں پہنچتے ہی ہلاکو خاں نے اس کو گرفتار کر کے بلد کر دیا اور بغداد کے قتل عام کا حکم دے دیا۔ بغداد کی مکمل تباہی کے بعد ۹ صفر ۵۶۰ ھ کو ہلاکو خاں خلیفہ معتصم کو لے کر بغداد میں داخل ہوا۔ خلیفہ سے پوچھ پوچھ کر محل کے تمام خفیہ خزانے نکلوا لئے ۔ اس کے بعد حکم دیا کہ خلیفہ کو قتل کر دیا جائے ۔ علقمی نے ہلاکو خاں سے کہا مسلمانوں کے خلیفہ کے خون سے اپنی تلوار کو آلودہ نہ کرو ۔ بلکہ اس کو کچلو اکتر مارو ۔ چنانچہ طوسی اور علقمی نے خلیفہ کو نمدے میں لپیٹ کر اس کو ایک ستون میں باندھ دیا۔ اس کے بعد اس پر اتنی لاتیں لگوائیں کہ خلیفہ کا دم نکل گیا۔
عباسی خلیفہ کو ختم کرنے کے بعد علقمی نے حسب قرارداد ہلاکو سے کہا کہ بغداد میں کسی علوی کو حاکم مقرر کر دے اور اس کو خلیفہ کا خطاب دے دے۔ ہلاکو خاں نے ابتداء اس قسم کے مبہم وعدے کر لئے تھے جس کی وجہ سے علقمی کو یقین تھا کہ ہلاکو خاں کسی علوی کو خلیفہ بنا کر مجھ کو اس کا نائب سلطنت بنا دے گا۔ مگر ہلاکو خاں نے علقمی کو ڈانٹ دیا ۔ اور بغداد پر اپنی قوم کا ایک حاکم مقرر کیا۔ علقمی اس ذلت اور نا کامی کو برداشت نہ کر سکا اور اس کے بہت جلد بعد گھٹ گھٹ کر مر گیا ۔
یہ وہی سیاست ہے جس کا خوبصورت نام موجودہ زمانہ میں متحدہ محاذ رکھا گیا ہے۔ اس قسم کی تجزیی سیاست ہر زمانہ میں رائج رہی ہے ۔ کچھ سیاسی حوصلہ مندوں نے بنو امیہ کے ساتھ مل کر ہاشمی خلافت کو ختم کیا۔ اس کے بعد کچھ دوسرے سیاست داں اٹھے اور انھوں نے بنو عباس کے محاذ میں شامل ہو کر بنو امیہ کو ختم کیا۔ پھر ایک اور سیاسی گروہ اٹھا اور اس نے تاتاریوں کا ساتھ دے کر بنو عباس کا خاتمہ کیا۔ ان میں سے ہر ایک کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے مفروضہ سیاسی حریف کو مشترکہ قوت سے ہٹا دے اور اس کے بعد اپنے آپ کو اوپر لائے۔ مگر ہر ایک کا ایک ہی انجام ہوا۔ وہ وقت کے قابض گروہ کو ہٹانے میں تو ضرور کامیاب ہوگیا مگر اپنے آپ کو اوپر لانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
تاریخ کا یہ تجربہ کافی تھا کہ موجودہ زمانہ میں اس کو نہ دہرایا جائے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہمارے موجودہ زمانہ کے قائدین آج بھی مسلسل اس کو دہرارہے ہیں۔ نہ تاریخ کی مثالیں ان کو سبق دینے کے لئے کافی ثابت ہوئیں اور نہ خود اپنا ناکام تجربہ ۔ سیاسی تقلید کی یہ انوکھی مثال اس امت کے رہنما دہرارہے ہیں جس کے رسولؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ پر ایمان لانے والا آدمی کبھی ایک بن سے دو بار نہیں ڈسا جاتا (المومن لا یلدغ من جحر مرتین )
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues