امتحان کی قیمت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۷
امتحان کی قیمت
تین عورتیں انسانی تاریخ کی معیاری عورتیں ہیں ــــــــ آسیہ ، مریم اور خدیجہ۔ یہ وہ نیک بندیاں ہیں جنہوں نے کبھی کوئی برائی نہیں کی۔ ان کی ذات سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی۔ مگر عجیب بات ہے کہ تینوں کو دنیا میں بے پناہ دکھ جھیلنا پڑا۔ حضرت آسیہ کا یہ انجام ہوا کہ مصر کے فرعون نے مخالفت سمتوں سے ان کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹوایا اور اس کے بعد انھیں سولی پر چڑھا دیا۔ حضرت مریم کو فلسطین کے یہودیوں نے ذلیل کیا اور ان پر زنا کا الزام لگایا۔ حضرت خدیجہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ تین سال تک عرب کے گرم پتھروں کے درمیان اس طرح رہیں کہ ان کا رنگ کالا پڑ جائے۔ درخت کی جڑیں اور پتیاں کھانے کی وجہ سے جانوروں کی طرح مینگنیاں کریں اور آخر کار شدید تکلیف میں اس دنیا سے چلی جائیں۔
یقیناً خدا کے علم میں تھا کہ یہ تینوں خواتین جنتی ہیں۔ وہ ان کو اچھے حالات میں رکھ سکتا تھا جس طرح وہ انھیں آخرت میں اچھے حالات میں رکھے گا۔ اس کے باوجود خدا نے گوارا کیا کہ یہ پاکیزہ ترین نسوانی روحیں انسانی بھیڑیوں کے قبضہ میں آئیں اور وہ ان کے ساتھ وہ وحشیانہ سلوک کریں جو انھوں نے کیا۔ اس کی واحد وجہ خدا کی سنت امتحان ہے۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ وہ ظالموں کا ظالم ہونا ثابت کرے اور ان کے معاشرہ کو اس بات کا مجرم ٹھہرائے کہ انھوں نے کھلے ہوئے فساد کو دیکھا پھر بھی فسادیوں کو روکنے کے لئے نہیں اٹھے۔ انھوں نے بے گناہ زندگیوں پر گنہ گاروں کو شیطانی قہقہے لگاتے ہوئے پایا مگر وہ خاموش رہے۔
ایسا واقعہ کسی بے داغ انسان ہی کے ذریعہ ظہور میں آسکتا ہے۔ جس طرح چیزوں کو ہمیشہ صحیح ترین باٹ سے تولا جاتا ہے، اسی طرح لوگوں کے ظلم و فساد کو ایسے انسانوں ہی کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے جو خود بے داغ ہوں۔ جو انتہائی بے ضرر ہوں اس کے باوجود لوگ ان کے ساتھ شیطانی حرکتیں کریں جن کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے پھر بھی لوگ ان کو اپنی بد باطنی کا نشانہ بنائیں۔
زیادہ تر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کا معاملہ ملا جلا ہوتا ہے۔ وہ مظلوم ہوتے ہیں تو اسی کے ساتھ وہ ظالم بھی ہوتے ہیں۔ انھیں کسی سے برائی پہنچی ہے تو انھوں نے خود بھی اس کو برائی پہنچائی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ خدا کی تراز و نہیں بنائے جاسکتے۔ اگر آپ دوسرے کے ساتھ اشتعال انگیز کارروائی کریں اور اس کے نتیجہ میں دوسرا شخص آپ کے خلاف فساد کرنے لگے تو آپ کا واقعہ دوسرے شخص کے ظلم کو ناپنے کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر آپ کسی سے چھین جھپٹ کریں اور اس کے بعد وہ آپ سے مار پیٹ کرنے پر اتر آئے تو آپ کبھی وہ آدمی نہیں بن سکتے جس کے ذریعہ خدا دوسرے شخص کے ظلم کو ناپے اور اس کو اس کی بدکرداری کی سزا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues