امتحان کی قیمت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۸
تراز و ایک طرفہ طور پر اپنے آپ کو درست بناتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ٹھہرتا ہے کہ وہ نادرست چیزوں کو ناپے اور تولے۔ اگر ترازو میں بھی کچھ فرق ہو جیسے دوسری چیزوں میں فرق ہوتا ہے تو ایسا ترازو ترازو بننے کے لائق نہیں۔ یہی معاملہ انسان کی اخلاقی پیمائش کا بھی ہے۔ انسانوں کی اخلاقی حالت کو ناپنے کے لئے ایسے انسان درکار ہیں جو یک طرفہ طور پر اپنے کو دوسروں کے لئے بے ضرر بنالیں۔ جو اپنے صابرانہ انداز کی وجہ سے اس بات کو ناممکن بنا دیں کہ کوئی شخص ردعمل کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔ ان کی زندگی اتنی بے داغ ہو کہ ان کے خلاف کیا ہوا ہر ظلم سراسر یک طرفہ ہو، ان کے خلاف برپا ہوا ہر فساد محض ایک فریق کی شرارت کا نتیجہ ہو۔
فرعون کے ظلم اور گھمنڈ کو ثابت شدہ بنانے کے لئے ضرورت تھی کہ حضرت آسیہ جیسی معصوم خاتون اس کے عقد نکاح میں دی جائیں۔ وہ ان کی معصومیت کو پوری طرح دیکھے، اس کے باوجود بالکل بے بنیاد طور پر وہ ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ یہودیوں کی شیطنت کو ثابت کرنے کے لئے حضرت مریم جیسی پاکیزہ روح درکار تھی جس کا معاملہ یہودیوں کے حوالے کیا جائے اور وہ اس کو ناحق ذلیل کریں اور اس پر زنا کا الزام لگائیں۔ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی کو درجہ ثبوت تک پہنچانے کے لئے ضرورت تھی کہ حضرت خدیجہ جیسی بے داغ سیرت کی خاتون ان کے قبضہ میں دی جائیں اور وہ ان پر بلاسَبب وحشیانہ سلوک کر کے انہیں موت کے کنارے پہنچا دیں۔
یہ مصیبت جو خدا کے کچھ بندوں کو جھیلنی پڑتی ہے یہ اس عمل کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔ ترازو اسی وقت ترازو بنتا ہے جب کہ وہ تول کا بوجھ اٹھائے۔ یہی معاملہ انسانوں کے درمیان اخلاقی ترازو بننے کا بھی ہے۔ یہاں بھی آدمی کو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان خدا کی ترازو بن سکے۔ ظالم کے ظلم کو تولنے کے لئے ایک آدمی کو مظلومیت کا دار سہنا پڑتا ہے۔ مفسد کا مفسد ہونا اس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ کوئی شخص اس کے فساد کا شکار ہو۔ دھوکا دینے والے کے لئے کوئی آدمی درکار ہوتا ہے جو دھوکا کھا کر اس کی دھوکہ بازی کو ثابت شدہ بنائے مزید یہ کہ ایسے ہر واقعہ میں قصور تمام تر ایک طرف ہو اور بے قصوری تمام تر دوسری طرف۔ بے داغ انسانوں کے ساتھ ظلم کیا جانا در اصل خدا کی سنت امتحان کی قیمت ہے۔ بے داغ انسان گویا خدا کے صحیح ترین ترازو ہیں جن پر لوگوں کی بدکرداریوں کو تولا جاتا ہے ۔ لوگوں کے ایمان و اخلاق کو تولنے کی یہی واحد صورت ہے۔ یقیناً یہ بڑا اندوہناک معاملہ ہے۔ مگر ان ستائی ہوئی پاکیزہ روحوں کو خدا کل کے دن اتنا زیادہ اجر دے گا کہ وہ آج کی تمام تکلیفوں کو بھول جائیں گے ۔ وہ کہہ اٹھیں گے کہ خدایا، تیرا احسان ہے کہ تو نے ہم سے ایک بہت چھوٹی قیمت لے کر ہم کو ایک بہت بڑے انعام کا مستحق بنا دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues