ذہنی بیداری
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۰
وہ اپنے سلسلہ کو ابراہیم ؑواسماعیلؑ جیسے قدیم پیغمبروں سے جوڑے ہوئے تھے۔ وہ اپنے کو کعبہ کا وارث اور ملت ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے، اور یہ وہ چیزیں تھیں جن کی تاریخی اہمیت سیکڑوں برس کی روایات کے نتیجہ میں تسلیم شدہ بن چکی تھی۔ بالفاظ دیگر، پیغمبر اسلام اپنی تاریخ کے آغاز پر تھے اور یہود اور قبائل عرب اپنی تاریخ کے اختتام پر۔
ایسی حالت میں چودہ سو سال پہلے والے پیغمبر اسلام کو ماننا اور آپ کا ساتھ دینا ان لوگوں کے لئے کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ قائم شدہ دین سے نکل کر ایک ایسے دین کو اختیار کرنا تھا جو ابھی قائم نہیں ہوا تھا۔ یہ مفادات سے وابستہ سچائی کو چھوڑ کر مجرد سچائی کو اختیار کرنا تھا۔ یہ مادی عظمتوں سے اوپر اٹھ کر غیر مادی عظمتوں کا ادراک کرنا تھا۔ یہ حال کے پردہ میں مستقبل کا مشاہدہ کرنا تھا۔ یہ محسوس خداؤں سے گزر کر چھپے ہوئے خدا کو پالینا تھا۔
اس قسم کا واقعہ کسی انسان کی زندگی میں اس طرح پیش نہیں آتا جیسے وہ ایک کمرہ سے نکل کر دوسرے کمرہ میں چلا گیا ہو۔ اس قسم کا واقعہ آدمی کی زندگی میں ہمیشہ بھونچال بن کر داخل ہوتا ہے۔ یہ ایک شعوری انقلاب ہوتا ہے جب کہ آدمی سوچے سمجمے ارادہ کے تحت ایک چیز کو چھوڑتا ہے اور سوچے سمجھے ارادہ کے تحت دوسری چیز کو لے لیتا ہے۔ اس میں آدمی کی قوت فیصلہ متحرک ہوتی ہے۔ اس کے جذبات میں عظیم ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ اس کو قربانیوں کے پل کو پار کرکے ایک طرف سے دوسری طرف جانا پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی پوری زندگی اس طرح ہل جاتی ہے جیسے کوئی طوفان کسی درخت کو ہلا دے۔ جب کچھ لوگ اس طرح انقلابی انداز میں ایک نظریہ کو اختیار کریں تو اس کے بعد عین قانون قدرت کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ زمین پر بالکل نئے قسم کے انسان وجود میں آتے ہیں۔ اور ان کے ملنے سے وہ سماج بنتا ہے جس سے ایسے حیرت ناک نتائج برآمد ہوں جو اس سے پہلے آسمان نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ جب عرب میں اسلام کی آواز بلند کی تو اس وقت دوسرے ادیان کا حال یہ تھا کہ وہ پہلے سے چلے آرہے تھے اور اس بنا پر وہ جھے ہوئے مفادات کی بنیاد پر قائم ہوچلے تھے۔ اسلام ابھی ایک مجرد نظریہ تھا، جب کہ دوسرے ادیان نے منظم ادارہ (Institution) کی صورت اختیار کر لی تھی۔ ایسی حالت میں اسلام کو اپنا دین بنانا ماحول کے اندر بے قیمت ہو جانے کے ہم معنی تھا۔ دوسرے ادیان سے وابستہ ہوکر آدمی کے تمام مفادات محفوظ رہتے تھے۔ وہ سماج کا معزز رکن شمار ہوتا تھا۔ مگر اسلام کو اختیار کرتے ہی وہ ایک ایسے دین کا فرد بن جاتا تھا جس نے سماج کے اندر اپنی حیثیت مسلم نہیں کی تھی، جس کے ساتھ ابھی تک مفادات وابستہ نہیں ہوئے تھے۔ وہ پر فخر روایات والے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues