ذہنی بیداری
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۹
ذہنی بیداری
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بستیوں کے لوگ اگر ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے ۔ مگر انھوں نے جھٹلایا (الاعراف ۹۶) یہی بات یہود کے بارے میں کہی گئی ہے کہ انھوں نے نبی آخر الزماں کو جھٹلا دیا ، اگر وہ ان پر ایمان لاتے تو وہ اپنے اوپر سے بھی کھاتے اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی اپنا رزق حاصل کرتے (المائدہ ۶۶)
ایک رسول کا اقرار کرنے پر اتنی زیادہ برکتوں کی خوش خبری کیوں دی گئی ۔ بہت سے لوگ اس کی وجہ یہ سمجھتے ہیں کہ کلمہ ایمان میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں اور زبان سے اس کا تلفظ کرتے ہی اسی طرح تمام خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں جس طرح قدیم افسانوی کہانی میں "رسمِ بسم " کہنے سے ایک شخص کے لئے خزانوں کا محل کھل گیا تھا۔ مگر اس قسم کا خیال سراسر بے بنیاد ہے۔ اگر ان برکتوں کا تعلق کلمہ ایمان کی لفظی ادائیگی سے ہوتا تو آج مسلمانوں کی زندگیوں میں ہر زمانہ سے زیادہ اس کا ظہور ہو رہا ہوتا۔ کیونکہ کلمہ ایمان کا تلفظ کرنے والے آج ہر زمانہ سے زیادہ عظیم مسلم امت (ایک ارب) کی صورت میں زمین کے اوپر موجود ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ایمان کے مدعیوں کی بے پناہ کثرت کے باوجود آج ان کے لئے نہ آسمانی برکتوں کے دروازے کھل رہے ہیں اور نہ زمینی برکتوں کے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں ایمان کا لفظ فکری انقلاب کے ہم معنی ہے۔ اس وقت جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان کے لئے ایمان کا مطلب واضح طور پر ایک ذہنی فیصلہ تھا۔ اس حقیقت کو بآسانی اس وقت سمجھا جاسکتا ہے اگر یہ دیکھا جائے کہ جب یہ آیتیں اتریں اس وقت یہود کے لئے یا عرب کے لوگوں کے لئے ایمان لانے کا مطلب عملاً کیا تھا۔
آج جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہیں تو یہ لفظ بولتے ہی ہمارے ذہن میں وہ مسلمہ شخصیت آ جاتی ہے جس کے ساتھ ڈیڑھ ہزار برس کی تاریخی عظمتیں وابستہ ہو چکی ہیں۔ مگر بعثت کے وقت لوگوں کی نظر میں آپ صرف ” محمد بن عبداللہ “ تھے۔ اس وقت یہ ساری تاریخ ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی۔ لوگوں کو آپ عام انسانوں کی طرح بس ایک معمولی انسان نظر آتے تھے۔ مگر یہود کا اور مشرکینِ عرب کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ یہود کو ایک ایسے دین کا حامل ہونے کا فخر حاصل تھا جس کی حیثیت معروف مسلم تھی۔ ان کے دین کے ساتھ موسیٰ اور داؤد اور سلیمان علیہم السلام جیسے کتنے سابق پیغمبروں کے نام شامل تھے جو لمبی تاریخ کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر اپنی عظمت قائم کر چکے تھے۔ یہی حال عرب کے مشرکین کا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues