ذہنی بیداری
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲
صورت حال یہ ہے کہ آج اسلام میں اسی طرح گدیاں بن چکی ہیں جس طرح وہ پہلے یہودیت میں پائی جاتی تھیں ۔ اسلام اب ایک ایسا نام بن گیا ہے جس کے اوپر چندے اور عہدے ملیں۔ جس کے نعرے پر عوام کی بھیڑ جمع کی جاسکے۔ جس کی بنیاد پر شخصیات بنیں اور قیادتیں ابھریں ۔ اسلام آج ایک ایسا عنوان ہے جس کے سہارے ادارے قائم ہوں اور خطابات حاصل ہوں۔ اسلام آج ہر اعتبار سے ایک عظیم ترین مارکیٹ ہے جس سے وہ تمام مادی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں جو دنیا کے عام بازاروں سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کتاب روپی دین عملاً بے جگہ ہو چکا ہے ۔ وہ محض ایک ذہنی تخیل کے طور پر فضا میں باقی ہے۔ کوئی شخص اگر اس کتاب والے دین کو اپنائے تو فوراً وہ محسوس کرے گا کہ وہ اپنے ماحول کے درمیان اجنبی ہو گیا ہے۔ ایسے آدمی کو اپنے اسلام کی یہ قیمت دینی پڑے گی کہ وہ لوگوں کو نئے دین کا حامل معلوم ہو۔ وہ بڑی بڑی دینی مجالس میں شرکت کے لئے نااہل قرار پائے۔ اونچی گدیوں میں سے کوئی گدی اس کو نہ ملے۔ قرآن سے گہرا تعلق رکھنے کے باوجود اس کو قرآنی جشن کی صدارت کے لئے نہیں بلایا جائے گا۔ حدیث کا عالم ہونے کے باوجود وہ کسی دینی مدرسہ کا شیخ الحدیث نہ بن سکے گا۔ مخلص اور متقی ہونے کے باوجود اس کا شمار بزرگوں میں نہیں ہوگا۔ دین کا گہرا فہم رکھنے کے باوجود دینی مسائل میں اس سے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ خدا اور رسول کی خاطر اپنی زندگی وقف کر دینے کے باوجود اس کو کسی دینی خطاب کا اہل نہیں سمجھا جائے گا۔ اور ان سب کی وجہ یہ ہوگی کہ ایسا آدمی جس دین پر قائم ہے وہ کتاب وسنت والا دین ہے اور منظم مذہب (Institutionalized Religion) کو ماننے والوں کے درمیان خالص کتاب و سنت والا دین اجنبی بن چکا ہے۔ لوگ دین کے نام سے جس چیز سے واقف ہیں وہ کچھ خارجی نقشے ہیں نہ کہ گہری ربانی حقیقتیں۔ وہ واقعات انسانی سے اپنا دین لے رہے ہیں نہ کہ واقعات خداوندی سے۔ شاہ ضرب کیرم ایک گھریلو کھیل ہے۔ یہ کھیل ایک تختہ (بورڈ) پر کھیلا جاتا ہے ۔ ایک بڑے چو کور تختہ کے بیچ میں روپیہ جیسی 19 گوٹیں مرتب مجموعہ کی صورت میں سمیٹ دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد کھیل کا آغاز کرنے والا ایک خاص گوٹ (اسٹر ائکر) لے کر تختہ کے ایک کونہ سے گوٹوں کے درمیانی مجموعہ پر نشانہ لگا کر پوری قوت سے مارتا ہے۔ اس کی مار اگر چہ مجموعہ کے صرف ایک نقطہ پر پڑتی ہے۔ لیکن مار اگر کامیاب ہے تو وہ گوٹوں کے پورے مجموعہ کو متاثر کردیتی ہے۔ اب ایک ایک گوٹ اپنی جگہ سے ہٹ کر کھلاڑی کی زد میں آ جاتی ہے۔ ایسی کامیاب مار کو کیرم بورڈ کی اصطلاح میں شاہ ضرب (Master Stroke) کہتے ہیں۔ خدا کے دین کو از سرِ نو زندہ کرنے کے لئے بھی اسی قسم کے ایک شاہ ضرب کی ضرورت ہے۔ یہ شاہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues