Al-Risala · March 1982 · page 13

ذہنی بیداری

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳

ضرب وہ ہے جو تنظیمی مذہب یا سماج روپی دین پر جمے ہوئے لوگوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے اور ان کو ذہنی اعتبار سے اس مقام پر لائے جہاں وہ کتاب وسنت والے دین کے مخاطب بن سکیں ۔ نبی صلی اللہ عل وسلم کے زمانہ میں یہی واقعہ پیش آیا تھا ۔ اب اسی واقعہ کو دوبارہ ظہور میں لانے کی کوشش کا نام تجدید دین ہے آج تجدید دین کا مطلب اسی کار نبوت کو دہرانا ہے۔ یہ نبی نے اپنے زمانہ میں سابقہ ادیان کی بنیاد پر قائم شدہ ڈھانچہ کے مقابلہ میں خدا کے دین کو زندہ کیا تھا۔ آج خود اسلام کی بنیاد پر قائم شدہ ڈھانچہ کے مقابلہ میں خدا کے خالص دین کو از سر نو زندہ کرنا ہے۔

اس عمل کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ لوگوں کا دینی جمود ٹوٹے۔ شخصیتوں اور اداروں میں اٹکے ہوئے لوگ براہ راست خدا کو اپنا مرکز توجہ بنا ئیں۔ جزئی مسائل کو دین سمجھنے والے اساسی امور کو دین سمجھیں اور طلسماتی فضائل پر بھروسہ کرنے والے لوگ حقائق کی بنیاد پر اپنے دین کی تعمیر کریں۔ جن لوگوں نے بے روح عملیات کو دین کے ہم معنی سمجھ لیا ہے وہ زندہ دین کی لذتوں سے آشنا ہوں ۔ جن کے یہاں دین ابھی تک چھنگلیا کی مانند ایک ضمیمہ بنا ہوا ہے وہ ان کی زندگیوں میں اس طرح داخل ہو کہ وہ ان کے کردار کے لئے قوت محرکہ بن جائے ۔ جو لوگ کچھ مصنوعی اعمال کو دین داری سمجھے ہوئے ہیں وہ حقیقی دین داری کی فضا میں داخل ہوں ۔ پھر اسی میں دور جدید کی اس سب سے بڑی خرابی کا حل بھی ہے جس نے اسلام کو تمام دنیا میں مسلمانوں کی قومی تحریکوں کا ضمیمہ بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کی زد میں آگئے ۔ اس کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کو دوسری قومیں ظالموں اور غاصبوں کے روپ میں دکھائی دینے لگیں ۔ ان کے اندر ہر جگہ مقابلہ آرائی کا ذہن ابھر آیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اب وہی باتیں اپیل کرتی ہیں جن میں ان کی دفاعی نفسیات کو تسکین ملتی ہو۔ مثلاً اسلام کی عسکری تعبیر، انبیاء کے مشن کو حکومت و سیاست کی اصطلاحوں میں بیان کرنا، دوسری قوموں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف ہنگامہ آرائی ، مصالحت (Adjustment) کے بجائے ٹکراؤ اور لڑائی کی باتیں ، وغیرہ ۔ یہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ اب اگر خاموش تعمیر اور دعوت آخرت کی بات کی جائے تو اس کو لوگ اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے یہ کوئی سازش ہے جو ان کو اپنے دشمنوں کے محاذ سے ہٹا کر غیر متعلق چیزوں میں مصروف کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ دین کو اگر قومی نقشوں میں بننے والے ڈھانچہ سے الگ کر کے ابدی حقیقتوں کی بنیاد پر کھڑا کر دیا جائے تو اس قسم کے تمام خیالات اپنے آپ بے زمین ہو جائیں گے۔ اسلام کی قومی تشریحات کسی آدمی کو اسی وقت تک اپیل کرتی ہیں جب کہ اس کا فکر قومی حالات کے نقشہ میں اٹکا ہوا ہو۔ اگر وہ قومی حالات سے اوپر اٹھ کر خدا کی ابدی کائنات میں جینے لگے تو اس قسم کی تشریحات و تعبیرات خود بخود اس کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page