Al-Risala · March 1982 · page 19

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۹

تذکیر القرآن

اور مہاجرین و انصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں اور جنہوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اور تمہارے گردو پیش جو دیہاتی ہیں ان میں منافق ہیں اور مدینہ والوں میں بھی منافق ہیں۔ وہ نفاق پر جم گئے ہیں۔ تم ان کو نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں۔ ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے۔ پھر وہ ایک عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے ۱۰۱ - ۱۰۰ خدا کے دین کی دعوت جب بھی شروع کی جائے تو دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یا تو ماحول اس کا دشمن ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں دین کے لیے پکارنے والے اجنبی بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ کے اندر بے جگہ کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو مہاجر چھوڑنے والا) کہا جاتا ہے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ ماحول خدا کے دین کی دعوت کے لیے سازگار ثابت ہو۔ ایسے ماحول میں جو لوگ دین کے داعی بنتے ہیں ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آتا کہ ان کا سب کچھ ان سے چھن جائے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگر ایسا کریں کہ وہ پہلے لوگوں کا سہارا بن کر کھڑے ہو جائیں تو یہی انصار (مدد کرنے والے) قرار پاتے ہیں۔ دورِ اول میں مکہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو مہاجر بنا دیا اور مدینہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو انصار کی حیثیت دے دی۔ خدا کی رضا مندی اور اس کی جنت کسی آدمی کو یا تو مہاجر بننے کی قیمت پر ملتی ہے یا انصار بننے کی قیمت پر۔ یا تو وہ خدا کے لیے اتنا یکسو ہو کہ دنیا کے سرے اس سے چھوٹ جائیں۔ یا اگر وہ اپنے کو صاحب وسائل پاتا ہے تو اپنے وسائل کے ذریعہ وہ اول الذکر گروہ کی محرومی کا بدل بن جائے۔ دورِ اول کے مسلمان (صحابہ کرام) اس ہجرت و نصرت کا کامل نمونہ تھے۔ بعد کے مسلمانوں میں جو لوگ اس ہجرت و نصرت کے معاملہ میں اپنے پیش روؤں کی تقلید کریں گے وہ بالتبع اس مقدس خدائی گروہ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ خدا کچھ لوگوں کو محروم کرتا ہے تاکہ ان کے اندر انابت کا جذبہ ابھرے، اسی طرح خدا کچھ لوگوں کو محرومی سے بچاتا ہے تاکہ وہ محروموں کی مدد کر کے خدا کے لیے خرچ کرنے والے بنیں۔ یہ خدا کا منصوبہ ہے۔ جو لوگ اس کا ثبوت نہ دیں وہ ایسے لوگ ہیں جو خدا کے منصوبہ پر راضی نہ ہوئے اس لیے خدا بھی آخرت کے دن ان سے راضی نہ ہوگا ۔ ”وہ اللہ سے راضی ہو گئے“ یعنی جس کو اللہ نے ایسے حالات میں اٹھایا کہ اس کو سب کچھ چھوڑنے کی قیمت پر دین کو اختیار کرنا پڑا تو وہ اس میں ثابت قدم رہا۔ اسی طرح جس کے حالات کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ اپنے اثاثہ میں ایسے دینی بھائیوں کو شریک کرے جن سے اس کا تعلق صرف مقصد کا ہے نہ کہ رشتہ داری کا تو وہ بھی اس پر راضی ہو گیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی خوشی حاصل کی اور یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کئے جائیں گے۔ منافق وہ ہے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے مگر جب ہجرت اور نصرت کی قیمت پر دین دار بننے کا سوال ہو تو اس کے لئے اپنے کو راضی نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page