Al-Risala · March 1982 · page 18

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸

تذکیر القرآن التوبہ ۹ دیہات والے کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور اسی لائق ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو کچھ اتارا ہے اس کے حدود سے بے خبر ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور دیہاتیوں میں ایسے بھی ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کو ایک تاوان سمجھتے ہیں اور تمھارے لئے زمانہ کی گردشوں کے منتظر ہیں۔ بری گردش خود انھیں پر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے یہاں قرب کا اور رسول کے لئے دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ہاں بے شک وہ ان کے لئے قرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقیناً اللہ بخشنے والا مہربان ہے ؂ ۹۹ - ۹۷ حدیث میں آیا ہے کہ جس نے دیہات میں سکونت اختیار کی وہ سخت مزاج ہو جائے گا (من سکن البادیۃ جفا) شہر کے اندر علمی ماحول ہوتا ہے، تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں۔ وہاں علم وفن کا چرچا رہتا ہے۔ جب کہ دیہات میں لوگوں کو اس کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اسی کے ساتھ دیہات کے لوگوں کے رہن سہن کے طریقے اور ان کے معاشی ذرائع بھی نسبتاً معمولی ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیہات کے لوگوں کے اندر زیادہ گہرا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت میں سختی اور ان کے سوچنے کے انداز میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ ان کے لئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ دین کی نزاکتوں کو سمجھیں اور ان کو اپنے اندر اتاریں۔

اللہ ہر بات کو جانتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔ وہ دیہات کے لوگوں، بالفاظ دیگر عوام، کی اس کمزوری سے باخبر ہے اور اپنی حکمت و رحمت کی بنا پر انھیں اس کی پوری رعایت دیتا ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں سے خدا کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ گہری معرفت اور اعلیٰ دین داری کا ثبوت دیں۔ وہ اگر نیک نیت ہوں تو خدا ان سے سادہ دین داری پر راضی ہو جائے گا۔

عوام کی دین داری یہ ہے کہ وہ سچے دل سے خدا کا اقرار کریں۔ اپنے اندر اس احساس کو تازہ رکھیں کہ آخرت کا ایک دن آنے والا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں اور یہ سمجھیں کہ اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی قربت اور برکت حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے پیغمبر کو خوش کر کے اس کی دعائیں لینے کے طالب ہوں۔ یہ دین داری کی عوامی سطح ہے، اور اگر آدمی کی نیت میں بگاڑ نہ ہو تو اس کا خدا اس سے اسی سادہ دین داری کو قبول کرلے گا۔

لیکن اگر عوام ایسا کریں کہ وہ خدا اور اس کے احکام سے بالکل غافل ہو جائیں۔ ان کو دین سے اتنی بے تعلقی ہو کہ دین کی راہ میں کچھ خرچ کرنا ان کو جرمانہ معلوم ہونے لگے۔ اسلام کی ترقی سے انھیں وحشت ہوتی ہو، تو بلاشبہ وہ ناقابل معافی ہیں۔ عوام کی کم فہمی کی بنا پر ان کو یہ رعایت تو ضرور دی جاسکتی ہے کہ ان سے گہری دین داری کا مطالبہ نہ کیا جائے، لیکن ان کی کم فہمی اگر سرکشی اور اسلام کے ساتھ بے وفائی کی صورت اختیار کرلے تو وہ کسی حال میں بخشے نہیں جاسکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page