Al-Risala · March 1982 · page 21

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۱

تذکیر القرآن التوبہ ۹ اور ان میں ایسے بھی ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے اور کفر کے لئے اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس لئے تا کمین گاہ فراہم کریں اس شخص کے لئے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ رہا ہے۔ اور یہ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی چاہی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کبھی کھڑے نہ ہونا۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر پڑی ہے وہ اس لائق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے کنارے پر رکھی جو گرنے کو ہے۔ پھر وہ عمارت اس کو لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑی۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتارہ اور یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بنی رہے گی بجز اس کے کہ ان کے دل ہی ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ ۱۰- ۱۷۰ زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں۔ ایک تقویٰ، دوسرے ظلم۔ پہلی صورت یہ ہے کہ خدا کے ڈر کی بنیاد پر زندگی کی عمارت اٹھائی جائے۔ آدمی کی تمام سرگرمیاں جس فکر کے ماتحت چل رہی ہوں وہ فکر یہ ہو کہ اس کو اپنے تمام قول وفعل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے جو کھلے اور چھپے سے باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کے حقیقی کارناموں کے مطابق جزا یا سزا دینے والا ہے۔ ایسا شخص گویا مضبوط چٹان پر اپنی عمارت کھڑی کر رہا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس قسم کے اندیشہ سے خالی ہو۔ وہ دنیا میں بالکل بے قید زندگی گزارے۔ وہ کسی پابندی کو قبول کئے بغیر جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ ایسے شخص کی زندگی کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ایسی کھائی کے کنارے اٹھادی گئی ہو جو بس گرنے ہی والی ہو اور اچانک ایک روز اس کا مکان اپنے مکینوں سمیت گہرے کھڈ میں گر پڑے ۔

جو لوگ ظلم کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں ان کے جرائم میں سب سے زیادہ سخت جرم وہ ہے جس کی مثال مدینہ میں مسجد ضرار کی صورت میں سامنے آئی۔ اس وقت مدینہ میں دو مسجدیں تھیں ۔ ایک آبادی کے اندر مسجد نبوی۔ دوسری مضافات میں مسجد قبا۔ منافق مسلمانوں نے اس کے توڑ پر ایک تیسری مسجد تعمیر کر لی۔ اس قسم کی کارروائی بظاہر اگر چہ دین کے نام پر ہوتی ہے مگر حقیقتاً اس کا مقصد ہوتا ہے اپنی قیادت اور پیشیوائی کو قائم رکھنے کی خاطر دعوت حق کا مخالفت بن جانا ۔ جو لوگ اپنی خود پرستی کی وجہ سے دعوت حق کو قبول نہیں کر پاتے وہ اس کے خلاف محاذ بناتے ہیں، اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کو درگزر ہوں میں بانٹ دیتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے تخریبی عمل کو دین کے نام پر کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ مسلمہ دینی شخصیتوں کو اپنے اسٹیج پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگوں کی نظر میں انھیں اعتماد حاصل ہو جائے۔

یہ لوگ اپنی اندھی دشمنی میں بھول جاتے ہیں کہ حق کی مخالفت دراصل خدا کی مخالفت ہے جو خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایسے لوگوں کے لئے جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ حسرت وافسوس کے ساتھ مریں اور اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page