Al-Risala · March 1982 · page 22

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۲

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے، امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تم ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس سے تم ان کو پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔ اور تم ان کے لئے دعا کرو۔ بے شک تمھاری دعا ان کے لئے تسکین ہوگی۔ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے۔ اور اللہ تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ کہو کہ عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان تمھارے عمل کو دیکھیں گے اور تم جلد اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو تمام کھلے اور چھپے کو جانتا ہے۔ وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کا حکم آنے تک ٹھہرا ہوا ہے، یا وہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۱۰۶ - ۱۰۲ کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگر چہ شر نہیں ہوتا۔ وہ معمول والے دینی اعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ مگر جب دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتا ہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر دین دار بننے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے لئے نہیں دے پاتے جس طرح انھیں دینا چاہئے۔ قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے لئے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسے لوگ اگر چہ قصور وار ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا قصور اس وقت معاف کر دیا جاتا ہے جب کہ یاد دہانی کے بعد وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں ۔

اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر از سرِ نو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساس گناہ کو دھونے کے لئے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں پیش کریں۔ جب ان کی طرف سے ایثار و عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انھیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تا کہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزم و اعتماد میں تبدیل ہو جائے ۔

خدا کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہو گیا اور جو شخص غلطی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کر لے وہ خدا کے نزدیک قابل معافی ٹھہرا۔

غلطی کرنے کے بعد آدمی ہمیشہ دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ دوسرا یہ کہ وہ ڈھٹائی کرنے لگے ، جو شخص اپنی غلطی کا اعتراف کر لے اس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوبارہ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ڈھٹائی کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے لئے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے لئے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے لئے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے لئے خدا کی سزا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page