Al-Risala · March 1982 · page 24

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴

بلا شبہ اللہ نے مومنوں سے ان کے جان اور ان کے مال کو خرید لیا ہے جنت کے بدلے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ پھر مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعوہ ہے، تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں ۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس تم خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے۔ اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی ۔ وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ عبادت کرنے والے ہیں۔ حمد کرنے والے ہیں ۔ خدائی راہ میں پھرنے والے ہیں۔ رکوع کرنے والے ہیں۔ سجدہ کرنے والے ہیں۔ بھلائی کا حکم کرنے والے ہیں۔ برائی سے روکنے والے ہیں۔ اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ اور مومنوں کو خوش خبری دے دو - ۱۱۱٢ - ١١ اللہ کا مومن بننا اللہ کے ہاتھ اپنے آپ کو بیچ دینا ہے۔ بندہ اپنا مال اور اپنی زندگی اللہ کو دیتا ہے تاکہ اللہ اس کے بدلے میں اپنی جنت اسے دے دے۔ یہ دراصل سپردگی اور سپردگی کی تعبیر ہے۔ کسی بھی چیز سے حقیقی تعلق ہمیشہ تواکی اور سپردگی کی سطح پر ہوتا ہے۔ تعلق کا یہی درجہ اللہ کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ جنت کی ابدی نعمتیں کسی کو کامل حواگی کے بغیر نہیں مل سکتیں ۔

جب آدمی خدا کے دین کو اس طرح اختیار کرتا ہے تو دین کا معاملہ اس کے لئے کوئی علیحدہ معاملہ نہیں رہتا۔ بلکہ وہ اس کا ذاتی معاملہ بن جاتا ہے۔ اب وہی اس کی دلچسپیوں اور اس کے اندیشوں کا مرکز ہوتا ہے۔ دین اگر مال کا تقاضا کرے تو وہ اپنا مال اس کے لئے حاضر کر دیتا ہے۔ دین کے لئے اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو وقف کرنا پڑے تو وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو اس کے لئے پیش کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ مرحلہ آجاۓ جب کہ اپنے وجود کو شاکر یا مال سے بے مال ہونے کا خطرہ مول لے کر دین میں اپنا حصہ ادا کرنا ہو تو اس سے بھی وہ دریغ نہیں کرتا۔ جو لوگ اس طرح اپنے کو اللہ کے حوالے کریں ان کے اندر کس قسم کے انفرادی اوصاف پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کی حساسیت اتنی بیدار ہو جاتی ہے کہ غلطی ہوتے ہی وہ اس کو جان لیتے ہیں اور فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ۔ ہیں ۔ وہ اللہ کے لئے کجھ جانے والے ہوتے ہیں ۔ وہ خدا کی عظمتوں کو اس طرح پالیتے ہیں کہ ان کے قلب اور زبان سے بے اختیار اس کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ وہ ساڑح ہو جاتے ہیں، یعنی انسانی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں جانا ان کے لئے زیادہ سکون کا باعث ہوتا ہے۔ خدا کے آگے جھکنا ان کے لئے محبوب چیز بن جاتا ہے۔ جو بھی ان کے ربط میں آتا ہے اس کو بھلائی کے راستہ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے سامنے کسی کو برائی کرتے دیکھتے ہیں تو اس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ خدا کی حد بندیوں کے معاملہ میں حد درجہ چو کنا ہو جاتے ہیں، دہ حدود اللہ کے اس طرح نگہبان بن جاتے ہیں جس طرح باغبان اپنے باغ کا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدائی انعامات کی خوش خبری ہے ۔

خدا کی جنت تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر خدا کی جنت ایک موعود انعام ہے ، وہ نقد انعام نہیں۔ جنت کی اسی موقلی نوعیت کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ جنت کو چھوڑ کر حقیر فائدوں کی طرف بھاگے جا رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page