شریعتوں میں فرق کی حکمت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵
تذکیر القرآن التوبہ ۹ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں روا نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی ہوں جب کہ ان پر کھل چکا کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا مانگنا صرف اس وعدہ کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کر لگویا تھا۔ پھر جب اس پر کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم بڑا نرم دل اور بردبار تھا۔ اور اللہ کسی قوم کو، اس کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں کرتا جب تک ان کو صاف صاف وہ چیزیں بتا نہ دے جن سے انہیں بچنا ہے، بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں، وہ جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار ایک شخص کا فرد و مشرك ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خدا کے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہو جاتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا یا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی تردید کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی دعا سے منع کر دیا گیا۔ تاہم آیت میں مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ کا لفظ بتاتا ہے کہ اس حکم کا تعلق زمانہ رسالت کے مشرکین سے ہے جن کے بارے وحی کے ذریعہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ جہنمی ہیں۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ منافقین کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کریں (التوبہ ۸۴)۔ یہ بات مدینہ کے منافقوں کو بہت ناگوار ہوئی۔ انھوں نے اس کو لے کر آپ کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ وہ کہتے کہ یہ نبی تو نبی رحمت ہیں اور اپنے کو ابراہیم کا پیرو بتاتے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں اور اپنے رشتہ داروں کے لئے استغفار سے روکتے ہیں۔ حالاں کہ ابراہیم کا حال یہ تھا کہ اپنے مشرک باپ کے لئے بھی انھوں نے مغفرت کی دعا کی۔
جواب دیا گیا کہ ابراہیم بڑے درد مند اور انسانیت کے غم میں گھلنے والے تھے۔ اپنے اس جذبہ کے تحت انھوں نے عہد کر لیا کہ وہ اپنے مشرک باپ کے حق میں خدا سے دعا کریں گے۔ مگر جب وحی نے تنبیہ کی تو اس کے بعد وہ فوراً اس سے باز آگئے۔
اللہ نے ہر آدمی کے اندر برائی کی فطری تمیز رکھی ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک ایسا پیغام آتا ہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے تو اس کا وجود اندر سے اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے دل کے اندر ایک خاموش کھٹک پیدا ہوتی ہے۔ آدمی اگر اس کھٹک کو نظر انداز کر دے، وہ فطرت کی گواہی کے باوجود بچنے والی چیز سے نہ بچے تو اس کی فطری حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بالکل مردہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو گم راہ کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ "ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرنا" کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا خطرہ مسلمانوں کے لئے بھی اسی طرح ہے جس طرح غیر مسلموں کے لئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues