Al-Risala · March 1982 · page 30

۱۔ قرآن و سنت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳۰

تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے۔ تمھار نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے۔ وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے۔ ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیریں حو کہہ دو کہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا ۲۹ - ۱۲۸ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر بتائی گئی ہے کہ اسلام کی جدوجہد میں ان کا سارا اعتماد صرف ایک اللہ پر ہے۔ وہ لوگوں کو جس خدا کی طرف بلانے کے لئے اٹھے ہیں وہ ایسا خدا ہے جو سارے اقتدار کا مالک ہے۔ تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے پاس ہیں۔ رسول اسی ایمان و یقین کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ اس لئے بالکل فطری ہے کہ اس کا سارا بھروسہ صرف ایک خدا پر ہو۔ وہ ہر قسم کی مصلحتوں اور اندیشوں سے بے پروا ہو کر حق کی خدمت میں لگا رہے۔

پھر یہ بتایا کہ خدا کا رسول لوگوں کے حق میں حد درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ وہ دوسروں کی تکلیفوں پر اس طرح کڑھتا ہے جیسے کہ وہ تکلیف خود اس کے اوپر پڑی ہو۔ وہ حرص کی حد تک لوگوں کی ہدایت کا طالب ہے۔ دعوت حق کی جدوجہد کے لئے اس کو جس چیز نے متحرک کیا ہے وہ سراسر خیر خواہی کا جذبہ ہے نہ کہ کوئی شخصی تو صلہ یا قومی مسئلہ ۔ امام احمد نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کی کمر پکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں (الادانی آخذ بحجز كم ان تنها نتوا في النار كتها نتفت الفراش والذباب)

رسول کی اس تصویر کی شکل میں حق کے داعی کی تصویر ہمیشہ کے لئے بتادی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے داعی کے اندر دو خاص صفات نمایاں طور پر ہونی چاہئیں ایک یہ کہ اس کا بھروسہ صرف ایک اللہ پر ہو۔ دوسرے یہ کہ مدعو کے لئے اس کے دل میں شفقت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو، اس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اگر چہ مدعو کی طرف سے طرح طرح کی شکایتیں پیش آتی ہیں۔ اس کے اور داعی کے درمیان قومی اور مادی جھگڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ مطلوب ہے کہ داعی ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرے اور مدعو کے لئے رحمت و رأفت کے سوا کوئی اور جذبہ اپنے اندر پیدا نہ ہونے دے۔

ابتداء اسلام میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ان کے لئے آپ کا ساتھ دینا اپنی بنی بنائی زندگی کو اجاڑ دینے کے ہم معنی بن گیا۔ اس سے کچھ لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ رسول ہمارے لئے مصیبت بن کر آیا ہے۔ مگر یہ وہی بات ہے جو عین مطلوب ہے۔ حق کی دعوت اسی لئے اٹھتی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا مصرف آخرت کی دنیا ہے نہ کہ موجودہ دنیا۔ اس لئے اگر رسول کا لایا ہوا دین اختیار کرنے میں دنیوی نقشہ بگڑتا ہوا نظر آئے تو اس پر آدمی کو مطمئن رہنا چاہتے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی متاع کو خدا نے آخرت کے لئے قبول کر لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page