۱۔ قرآن و سنت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹
تذکیر القرآن التوبہ ۹ اے ایمان والو، ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اند رسختی پائیں اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب کوئی سورہ اترتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کر دیا۔ پس جو ایمان والے ہیں ان کا اس نے ایمان زیادہ کر دیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔ اور جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے تو اس نے بڑھادی ان کی گندگی پر گندگی۔ اور وہ مرنے تک کافر ہی رہے۔ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر سال ایک بار یا دو بار آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ سبق حاصل کرتے ہیں۔ اور جب کوئی سورہ اتاری جاتی ہے تو یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھتا تو نہیں، پھر چل دیتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اس وجہ سے کہ یہ سمجھ سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ ۱۲۳-۱۲۷ "قریب کے منکروں سے جنگ کرو" کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلامی جد و جہد کوئی بے منصوبہ جد و جہد نہیں ہے بلکہ اس میں ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ پہلے قریب کی رکاوٹوں پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی اور اس کے بعد دور کی رکاوٹوں سے نپٹا جائے گا۔ اسی سے یہ بات بھی نکلی کہ سب سے پہلا مجاہدہ خود اپنے نفس سے کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ آدمی کے سب سے قریب اس کا اپنا نفس ہوتا ہے۔ باہر کے دشمنوں کی باری اس کے بعد آتی ہے۔ پھر اسلام دشمنوں سے بھی اولاً جو چیز مطلوب ہے وہ سختی (غلطہ) ہے یعنی وہ مضبوطی جو دشمنوں کے لئے رعب کا باعث بن جائے (اذ کان ذلك يوقع المهابة لنافي صدورهم والرعب في قلوبهم (تفسیر جصاص)
اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ دشمنوں سے مقابلے کی ساری کارروائی تقویٰ کی بنیاد پر کی جائے۔ تقویٰ (خوف خدا) کی روش ہی مسلمانوں کے لئے نصرت خداوندی کی ضامن ہے تقویٰ سے ہٹتے ہی وہ خدا کی مدد سے محروم ہو جائیں گے۔ قرآن نے اپنی یہ خصوصیت بیان کی ہے کہ اس کی آیتوں کو سن کر مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر اضافہ ایمان کا تعلق آدمی کی اپنی قلبی صلاحیت پر ہے نہ کہ صرف آیتوں کے سن لینے پر۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے جب قرآن اترا تو اس کے الفاظ ابھی صرف الفاظ تھے، وہ تاریخی واقعہ نہیں بنے تھے۔ اس وقت قرآن کی اہمیت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو حقیقت کو اس کی مجرد صورت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ظاہر پرست منافقین کے اندر یہ صلاحیت نہ تھی، ان کو قرآن کے الفاظ صرف الفاظ معلوم ہوتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ چند الفاظ کا مجموعہ کسی کے یقین و اعتماد میں اضافہ کا سبب کیسے بن جائے گا۔ چنانچہ جب کوئی نئی آیت اترتی تو وہ یہ کہہ کر مذاق اڑاتے کہ عربی کے ان الفاظ نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا۔
خدا ایسے لوگوں کو بار بار مختلف قسم کے جھٹکے دیتا ہے تاکہ ان کے دل کی حساسیت بڑھے اور وہ باتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ پکڑنے کے قابل ہو جائیں۔ مگر جب آدمی خود نصیحت نہ لینا چاہے تو کوئی خارجی چیز اس کی نصیحت کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔ نصیحت لینے والی بات سامنے آئے اور آدمی اس کو نظر انداز کر دے تو اس کا یہ عمل اس کو نصیحت کے معاملہ میں بے حس بنا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues