غلبہ اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲
عظیم کے پیدا کئے ہوئے ہنگامی حالات کے اندر سے برآمد ہوئی۔ جب کہ اس قسم کی عالمی جنگ کو برپا کرنا نہ اشتراکی تحریک کے اختیار میں تھا اور نہ وطنی آزادی کی تحریک کے اختیار میں۔ اسی طرح دورِ اول مسلمانوں کی تیز فتوحات کا خاص سبب یہ تھا کہ ایران و روم کی سلطنتیں عین اسی زمانہ میں لمبی لڑائیاں لڑ کر بالکل کمزور ہو چکی تھیں۔ اور ظاہر ہے کہ وقت کی دوسرے بڑی طاقتوں کے درمیان اس قسم کی تباہ کن جنگ چھیڑ نا صرف خدا کے اختیار میں تھا نہ کہ کسی انسان کے اختیار میں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عام قوموں کے درمیان سیاسی تبدیلیاں خدا کے قانون دفع (بقرہ ۲۵۱) کے تحت ظہور میں آتی ہیں۔ یعنی ایک ظالم اور مفسد کی سیاسی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے اس کی جگہ کسی دوسرے کو لے آنا، ایک گروہ کے ذریعہ کسی دوسرے گروہ کو ہٹا دینا۔ بالفاظِ دیگر، عام سیاسی تبدیلیاں زیادہ تر سلبی مقصد کے تحت ہوتی ہیں۔ مگر جہاں تک اسلامی انقلاب کا تعلق ہے وہ ایجابی مقصد کے تحت وقوع میں آتا ہے۔ اسلامی انقلاب اس لئے برپا کیا جاتا ہے کہ اللہ اپنے ان خاص بندوں پر احسان کرے جنہوں نے خدا کے مطلوبہ معیار کے مطابق اپنے شعور اور اپنے کردار میں صلاحیت کا ثبوت دے دیا ہے :
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان سے اللہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں حکومت عطا کرے گا جیسا مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى کہ ان لوگوں کو حکومت دی جو ان سے پہلے گزرے، اور لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ان کے دین کو جمارے گا جس کو ان کے لئے پسند کیا ہے اور (النور ۵۵) ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے کہ وہ عام طرز کی سیاسی یا غیر سیاسی تدبیروں سے وقوع میں آجائے۔ یہ کفر و شرک کی عالمی بالا دستی کو ختم کرنے کا مسئلہ ہے۔ یہ غالب تہذیب کو مغلوب کرنے اور مغلوب تہذیب کو دوبارہ غلبہ کا مقام دینے کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک تاریخی دور کو ختم کر کے دوسرا تاریخی دور واپس لانے کا مسئلہ ہے۔ مختصر الفاظ میں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے خدائی طاقتوں کی کارفرمائی درکار ہے۔
اس کے لئے ضرورت ہے کہ ایک طوفان نوح برپا ہو جس میں شیطان کی تمام نسل غرق ہو کر رہ جائے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ معجزہ موسوی ظاہر ہو جو فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر کی موجوں کے حوالے کر دے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں اور " بدر" کے میدان میں وقت کے تمام بڑوں کو جمع کر کے انھیں مسلمانوں کے قبضہ میں دے دیں۔ یہ واقعہ خدائی مدد سے ظہور میں آنے والا واقعہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues