Al-Risala · March 1982 · page 33

غلبہ اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳

مسلمان صرف اپنی محدود کوششوں سے اس کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا قافلہ اپنے ہی قدموں پر چل کر آگے بڑھے گا مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس کے لئے زینہ خدا کی طرف سے فراہم ہو گا جس سے چھلانگ لگا کر وہ اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔ حالات میں اس قسم کی غیر معمولی تبدیلی کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اس کا اہتمام ہمیشہ کائنات کے رب کی طرف سے ہوتا ہے۔

آج مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں ہیں اس سے نکلنے کی سبیل محض معمولی کی تحریکی کوششوں میں نہیں ہے بلکہ غیر معمولی حالات کے ظہور میں ہے۔ ہمارے حوصلوں کی کامیابی کا امکان صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ خداعی مداخلت ہماری جدوجہد کو ہمارے لئے سازگار بنا دے۔ جب زمین و آسمان کا مالک اپنی مافوق قوتوں سے سیاسی اور تمدنی چٹانوں میں ایسے درے پیدا کر دے جن سے نفوذ کر کے ہم آگے جاسکتے ہوں۔ وہ ایسی موافق آندھیاں چلائے جس سے ایک طرف مخالف کیمپ کی طنابیں اکھڑیں اور دوسری طرف ملت اسلامیہ کی راہ ہموار ہوتی ہو۔ وہ ایسی بارش برسائے جو ایک کے لئے کیچڑ اور دلدل بنے اور دوسرے کے لئے سیرابی اور تازگی کا سامان پیدا کرے۔ وہ ایسا زلزلہ برپا کرے جس سے بلندیاں پست ہو جائیں اور پستیاں ابھر کر اوپر آ جائیں۔ وہ مقابلہ کے وقت ایک فریق کے اوپر رعب اور دوسرے فریق کے اوپر آمنہ نازل کرے۔ جب تک اس قسم کی غیر معمولی آسمانی مدد ہمارا ساتھ نہ دے، محض سیاسی کارروائیاں یا جلسہ جلوس ہم کو کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔ دور اول کا اسلامی قافلہ بھی اسی قسم کی خداوندی نصرت سے کامیاب ہوا تھا اور آج بھی وہ کامیاب ہوگا تو اسی قسم کی نصرتوں سے کامیاب ہوگا۔ غلبہ کا ذریعہ دعوت الی اللہ خدا کی اس برتر نصرت کا مستحق بننے کے لئے کسی مومن گروہ کو جس اہلیت کا ثبوت دینا ہے وہ ذاتی اصلاح کے بعد دعوت ہے۔ مومنین کے گروہ کے لئے خدا نے جس اجتماعی نصرت کا وعدہ کیا ہے وہ تمام تر اس پر موقوف ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں صاحب ایمان ہو، اور پھر دائی الی اللہ ہونے کا ثبوت دے۔ موجودہ دنیا میں اہل ایمان کی اصل ذمہ داری شہادت علی الناس (حج) ہے۔ اہل ایمان دنیا کی قوموں کے اوپر خدا کی طرف سے حق کے گواہ ہیں (انتم شہداء اللہ فی الارض، حدیث) اس لئے بالکل فطری ہے کہ اسی اصل حیثیت کے تحقق پر ان کو خدا کا وہ عظیم انعام ملے جس کو غلبہ وسرفرازی کہا جاتا ہے۔

مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ایک گروہ دوسرے گروہ کو لوٹتا ہے، جہاں ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر غالب آنے کے لئے سرگرمیاں دکھاتا ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے لئے دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page