Jenghiz Khan, by Harold Lamb, P. 266
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶
حلیف تھا۔ چنانچہ ان کے عمومی طور پر اسلام قبول کرتے ہی قبیلہ ثقیف کو محسوس ہوا کہ ان کا بازو ٹوٹ چکا ہے اور اب ان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ مدینہ جاکر اسلام قبول کرلیں اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجائیں ۔ طائف کا دروازہ فوجی مہم کے لئے بند تھا، مگر دعوتی مہم کے لئے وہ کھلا ہوا نظر آیا۔ ۴۔ اس کے بعد اسلامی تاریخ مختلف مراحل طے کرتی ہوئی آٹھویں صدی ہجری میں پہنچتی ہے۔ تاتاری قبائل ملکوں اور شہروں کو زیر و زبر کرتے ہوئے اسلامی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں اور بغداد کی عظیم مسلم سلطنت کو تاراج کرکے رکھ دیتے ہیں۔ چنگیز خاں وسط ایشیا سے ۱۲۱۶ء میں ساٹھ ہزار وحشی انسانوں کو لے کر نکلا۔ یہ لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر اور تیر اور تلوار لئے ہوئے آبادیوں پر ٹوٹ پڑے اور تمام تمدنی نشانات کو برباد کر ڈالا۔ عراق، ایران، ترکستان ان کے قدموں کے نیچے زیر و زبر ہو گئے، جہاں اس وقت کی طاقت ور ترین سلطنت قائم تھی۔ سارے عالم اسلام پر دہشت کا سناٹا چھا گیا۔ ۱۳۵۳ء میں چنگیز خاں کے پوتے ہلاکو کی سرکردگی میں یہ طوفان دوبارہ اٹھا اور ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو بھی تہس نہس کر ڈالا جو عظیم مسلم خلافت کی بربادی کے بعد ابھرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہم عصر مورخ ابن اثیر (م ۴۳۰ھ) کے الفاظ میں " اگر کوئی شخص کہے کہ آدم سے لے کر اب تک ایسا کوئی حادثہ دنیا میں پیش نہیں آیا تو اس کا کہنا غلط نہ ہوگا " ایک مغربی مورخ کے نزدیک یہ واقعہ اتنا ہولناک تھا کہ اس کے قلم سے یہ الفاظ نکلے ۔ " آسمان نے زمین پر گر کر تمام چیزوں کو مٹا دیا۔ "
Jenghiz Khan, by Harold Lamb, P. 266
اس نازک وقت میں اسلام کی دعوتی طاقت ہی تھی جس نے تاتاریوں کے نہ رکنے والے سیلاب سے اسلام کو بچایا۔ تاتاری اپنی مفتوح رعایا کے ذریعہ اسلام سے متعارف ہونا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ اسلام نے انھیں جیت لیا اور ان کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن اسلام کے پاسبان بن گئے۔ یہ کام کن مسلمانوں کے ذریعہ انجام پایا۔ اس سلسلہ میں وقت کی قابل ذکر شخصیتوں کا نام تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ غالباً یہ واقعہ بھی اسی طرح ظہور میں آیا جس طرح موجودہ زمانہ میں قبول اسلام کے واقعات ظہور میں آرہے ہیں۔ آج مختلف ملکوں میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مگر ان نو مسلموں تک اسلام کو پہنچانے کا کام اکابر کے ذریعہ نہیں ہو رہا ہے۔ یہ دراصل کچھ غیر معروف اصاغر ہیں جو خاموشی کے ساتھ دعوت دین کا کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح آٹھویں صدی ہجری میں تاتاریوں میں تبلیغ اسلام کا کام بھی غالباً کچھ غیر مشہور مسلمانوں کے ذریعہ انجام پایا۔ تاتاریوں کے سلسلے میں اسلام کی دعوتی قوت کا اعتراف عام طور پر مورخین نے کیا ہے۔ یہاں ہم دو غیر مسلم محققین کے اقتباسات نقل کرتے ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues