Al-Risala · March 1982 · page 35

غلبہ اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵

ہیں ۔ وہ تعصب کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں نہ کہ فی الواقع فطری تصدیق کی زمین پر۔ کیونکہ فطری تصدیق وہاں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اگر ہم کسی طرح تعصب کا پردہ ہٹا دیں تو تمام دوسرے مذاہب بے زمین ہو جائیں گے اور لوگوں کو اس کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہ دے گا کہ وہ اسلام کے سایہ میں پناہ لیں ۔ دعوتی تسخیر کی مثالیں دعوت میں ہمارے لئے زندگی کا راز چھپا ہوا ہے، یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ اسلام کی تاریخ اس نظریہ کے حق میں واضح تائید پیش کرتی ہے ۔

۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنے پیغمبرانہ کام کا آغاز فرمایا۔ مگر مکہ کی زمین آپ کے لئے انتہائی سخت ثابت ہوئی۔ نبوت کے بارھویں سال بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کی تاریخ مکہ سے شروع ہو کر مکہ ہی میں ختم ہو جائے گی۔ مگر اس کے بعد حیرت انگیز طور پر یثرب (مدینہ) میں یہ مواقع پیدا ہو گئے کہ آپ ہجرت کرکے وہاں جائیں اور وہاں اسلام کا مرکز قائم کریں۔ مدینہ میں یہ نیا امکان کیوں کر پیدا ہوا۔ اس کا ایک ہی جواب ہے، اور وہ یہ کہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ ۔ مدینہ میں چند لوگوں کی دعوتی جد و جہد کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہاں گھر گھر اسلام پھیل گیا (حتی لم تبق دار من دور الانصار الا وفيها رجال ونساء مسلمون، سيرة ابن هشام جلداول) اس طرح انتہائی مشکل اور مایوس کن حالات میں اسلام کی اشاعت کے ذریعہ مدینہ میں مسلمانوں کے لئے زندگی کے مواقع کھلے ۔

۲۔ ہجرت نے اگرچہ مسلمانوں کے لئے اپنا ایک علاقہ مہیا کر دیا تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے باقاعدہ جنگ چھیڑ کر دوبارہ اسلام کے لئے شدید حالات پیدا کر دئے ۔ اسلام ایسی مشکلات میں گھر گیا کہ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ اسلام کے دشمن شاید اسلام کا وجود مٹا دیں گے ۔ اس وقت پھر دعوت ہی تھی جس نے دوبارہ اسلام کے لئے نئے حالات کا دروازہ کھولا۔ حدیبیہ کی صلح کی صورت میں ہر ممکن قیمت دے کر جنگ و جدال کا ماحول ختم کر دیا گیا اور پر امن حالات میں از سر نو دعوتی عمل جاری کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو سال میں مسلمانوں کی تعداد چوگنے سے بھی زیادہ ہو گئی۔ بالآخر قریش کے سردار اتنا مرعوب ہوئے کہ لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دئے ۔

۳۔ فتح مکہ کے بعد پھر ایک بہت بڑا مسئلہ قبیلہ ثقیف کی صورت میں پیدا ہوا۔ وہ بے حد سرکش تھے اور دیواری شہر کے مالک ہونے کی وجہ سے ان پر فوجی کارروائی کرنا مسلمانوں کے لئے اپنے حالات کے لحاظ سے بظاہر نا ممکن تھا۔ اس وقت قبیلہ ثقیف کو جس چیز نے زیر کیا وہ دعوت ہی تھی۔ قبیلہ ہوازن (۶ ہزار) کے ساتھ تالیف قلب کا طریقہ اختیار کر کے انہیں اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ قبیلہ مہازن طائف کے قبیلہ ثقیف کا الرسائل، مارچ ۱۹۸۲

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page