اسلام جدید دور میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱
خط کھایا مگر کسی نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی۔ جاپان کا سرکاری قاصد رسمی شکریہ کا جواب لے کر واپس چلا گیا۔
قریبی ماضی میں اس طرح کے عظیم واقع کو استعمال نہ کرنے کی وجہ صرف ایک تھی، دعوتی کام کی اہمیت سے مسلمانوں کا غافل ہونا۔ لوگ بطور خودجن سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے بس اسی کو وہ کام سمجھتے رہے۔ اور غیر مسلموں میں تبلیغ و دعوت کے کام کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ غیر مسلموں کا قافلہ خود ان کے یہاں آکر ان کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ خدائی فیصلہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک فرد لارڈ ہیڈلے فاروق نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں گابون (افریقہ) کے صدر مملکت محمد عمر بانگو نے اسلام کو اپنا دین بنانے کا اعلان کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسی طرح غیر مسلم اقوام کے لاکھوں لوگ، اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ ان میں نہ صرف عوام ہیں بلکہ تاجر، ڈاکٹر، انجینئر، اہل علم اور سرکاری عہدہ دار جیسے لوگ بھی کثیر تعداد میں شامل ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی انتہائی نادان سیاست کے نتیجہ میں اسلام اور مسلمان سخت مغلوبیت کی حالت میں پہنچ گئے تھے، اچانک اسلام کی دعوتی قوت نے اپنا کرشمہ دکھایا اور یہاں کے پس ماندہ طبقات نے عمومی پیمانہ پر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ یہ واقعہ کتنا عظیم ہے۔ اس کا اندازہ ایک اقتباس سے ہو گا۔ مسٹر کرشنا دھن سردار (رامیشور پور، مغربی بنگال) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ہندو دوسرے جنم میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور ہندو ازم کا نیا جنم عمومی طور پر اسلام قبول کرنے کی صورت میں فروری کے وسط میں تامل ناڈو میں شروع ہو گیا ہے: Hindus believe in re-birth and the re-birth of Hinduism has taken place in Meenakshipuram (Tamil Nadu) in the middle of February (1981) in the form of mass conversion to Islam. Radiance Weekly, August 9, 1981 اس قسم کے واقعات جو دنیا بھر میں ہو رہے ہیں وہ مسلمانوں کی تمام موجودہ تحریکوں کو خدا کی نظر میں بے اعتبار (Discredit) ٹھہرانے کے ہم معنی ہیں۔ مسلمان جن میدانوں میں جان و مال کی قربانی دے کر اپنا مستقبل تلاش کرتے رہے وہاں سے کسی بھی درجہ میں مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ ان میدانوں میں ان کی کوششیں حبط اعمال کا مصداق بنتی رہیں۔ دوسری طرف وہ میدان جہاں جدید مسلم قیادت نے دنیا بھر میں کہیں سرے سے کوئی کوشش ہی نہ کی تھی وہاں اپنے آپ لہلہاتی ہوئی فصل نکلی چلی آرہی ہے۔ اس طرح خدا بتا رہا ہے کہ تم جن مقامات پر میری مدد تلاش کر رہے ہو وہاں مجھے مدد د دینا مطلوب ہی نہیں ہے۔ یہ زمین
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues