اسلام جدید دور میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۴۲
وہ زمین ہی نہیں جہاں میرے انعامات کی فصل اگتی ہو۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میری وہ مدد تمہیں حاصل ہو جس سے بند دروازے کھلتے ہیں اور چٹانیں اپنی جگہ سے کھسکنے لگتی ہیں تو تم دعوت کی زمین میں اپنی کوششیں صرف کرو جس کو میں نے اتنا زرخیز بنایا ہے کہ کسی عمل کے بغیر ہی اس کے اندر سے شان دار فصل نکلی چلی آرہی ہے۔ خدا ہم کو دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر مسلمان قدرت کے اس اشارہ کو سمجھیں اور اپنی کوششوں کو غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں تو موجودہ نتائج کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ موجودہ نسل ہی میں غلبہ اسلام کا وہ خواب پورا ہو جائے جس کی تعبیر ہم صدیوں سے دوسرے میدانوں میں تلاش کر رہے ہیں مگر وہ کسی طرح پورا نہیں ہوتا۔ عبرت ناک منظر مغرب کے مشہور مفکر جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰ - ۱۸۵۶) نے کہا تھا کہ اگر کوئی مذہب ہے جو اگلے سو سال میں انگلستان پر حکومت کرے، نہیں بلکہ سارے یورپ پر حکومت کرے تو وہ صرف اسلام ہوگا۔ میں نے محمد کے مذہب کو ہمیشہ بڑی قدر کی نظر سے دیکھا ہے۔ کیونکہ اس کے اندر حیرت انگیز طاقت ہے۔ یہ واحد مذہب ہے جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کو اپنے اندر جذب کر سکے، جس کے اندر ہر دور کے لئے اپیل ہے:
If any religion has the chance of ruling over England, nay Europe, within the next hundred years, it can only be Islam. I have always held the religion of Muhammad in high estimation because of its wonderful vitality. It is the only religion which appears to me to possess the assimilating capability to the changing face of existance, which can make its apeal to every age. ہندوستان کے مشہور ہندو مفکر سوامی ویویکانند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) نے لکھا تھا کہ ادویتا واد مذہب اور فکر کی دنیا میں آخری لفظ ہے اور واحد پوزیشن ہے جہاں سے ایک شخص تمام مذاہب اور فرقوں کو محبت کی نظر سے دیکھ سکتا ہے۔ تاہم عملی ادویتا داد جو تمام انسانیت کو خود اپنی طرح دیکھتی ہے اور اپنوں کا سا سلوک کرتی ہے، کبھی ہندوؤں میں پیدا نہ ہوسکی۔ دوسری طرف میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب قابل لحاظ حد تک اس مساوات کو پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ اسی لئے میں قطعی طور پر یہ خیال رکھتا ہوں کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر ویدانت کے نظریات بالکل ہی بے قیمت ہیں۔ ہمارے مادر وطن (ہندوستان) کے لئے جو دو عظیم نظام ات، ہندوازم اور اسلام کا مقام اتحاد ہے، ویدانت کا دماغ اور اسلام کا جسم ہی واحد امید ہے۔ میں اپنے تصور کی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان موجودہ انتشار اور اختلاف سے نکل کر شان دار اور غیر مفتوح بن رہا ہے، اور یہ ویدانت کے دماغ اور
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues