Al-Risala · March 1982 · page 43

اسلام جدید دور میں

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳

اسلام کے جسم کے ذریعہ ہو رہا ہے :

I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strive, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. Letters of Swami Vivikanand (1970) P.453 کیسی عجیب بات ہے۔ جدید انسان کو جہاں اپنی زندگی کی کہانی اسلام کے بغیر نامکمل دکھائی دیتی ہے، وہاں ہمیں کرنے کا کوئی کام نظر نہیں آتا۔ اور جہاں جدید انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے بغیر اس کی کہانی آخری حد تک مکمل ہے، وہاں ہم اس کی پتھریلی دیوار سے اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ عبرتناک منظر شاید آسمان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی واحد امید ہے، دنیا کی بھی اور خود مسلمانوں کی بھی۔ دنیا، اپنی تمام ترقیوں کے باوجود، اس لئے بے چین ہے کہ اس کو مالک کائنات کی سچی رہنمائی حاصل نہیں۔ مسلمان اس لئے برباد ہیں کہ ان کے ذمہ خدا کی سچائی کو دوسروں تک پہنچانے کا کام سپرد کیا گیا تھا اور اس کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ بقیہ دنیا حق سے محرومی کی سزا بھگت رہی ہے اور مسلمان حق سے غفلت کی۔ یہ صورتِ حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک مسلمان حق کے داعی بن کر کھڑے نہ ہوں۔ دوسرے کاموں میں مشغول ہونا یا دوسرے کاموں کو دعوت و تبلیغ کا نام دینا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے، نہ کہ وہ انھیں خدا کی رحمتوں کا مستحق بنائے۔ ۔ مسلمان اگر دعوت الی اللہ کا کام کریں تو ان کے لئے اس دنیا میں سب کچھ ہے اور اگر وہ اس مطلوبہ کام کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کی اس دنیا میں ان کے لئے کچھ نہیں۔

آسٹریلیا کی ایک مسیحی خاتون نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے بجاطور پر لکھا ہے : This is the passing glimpse of Islam. And it has much to offer to our restless world. But it seems to be an abandoned treasure, abandoned by those who bear its name. No wonder their lives are so different from the glory I described. And unless they return back to it again, they will remain in bewilderment in the rear of humanity's procession. For it is remedy, light and guidance from God, for them and for the world. (P.44) Dr Cheris Wady, The Muslim Mind, Macmillan Co. Ltd. Bombay یہ اسلام کا ایک سرسری خاکہ ہے۔ اور اس میں ہماری بے چین دنیا کے لئے بہت کچھ ہے۔ مگر یہ بظاہر ایک چھوٹا ہوا خزانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کو ان لوگوں نے چھوڑ رکھا ہے جو اس کا نام لیتے ہیں۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ ان کی زندگیاں اس عظمت سے بہت مختلف ہیں جو میں نے بیان کیا۔ اور جب تک وہ دوبارہ اس اسلام کی طرف واپس نہ ہوں وہ حیران و پریشان انسانیت کے قافلہ سے بچھڑے ہی رہیں گے۔ کیونکہ خدا کی طرف سے یہی ایک علاج۔ اور روشنی اور رہنمائی ہے ان کے لئے بھی اور ساری دنیا کے لئے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page