Al-Risala · March 1982 · page 3

غصہ سے بچیے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳

نہیں سن سکیں گے اور دوبارہ ناکام رہیں گے۔ جو آدمی فریاد و ماتم میں مشغول ہو اس کے کان اپنی ہی آوازوں سے بھرے ہوتے ہیں، پھر اس کو باہر کی آواز کس طرح سنائی دے گی۔

اتھرو وید میں کہا گیا ہے "میرے دائیں ہاتھ میں عمل ہے اور میرے بائیں ہاتھ میں فتح" حقیقت یہ ہے کہ عمل اور کامیابی دونوں باہم اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں میں وہی رشتہ ہے جو بیج اور درخت میں ہوتا ہے، درخت اسی کے حصہ میں آتا ہے جس نے درخت کے لئے بیج ڈالا ہو۔ اسی طرح کامیابی کا مالک صرف وہ شخص بنتا ہے جس نے اس کے لئے ضروری عمل کیا ہو۔ بیج کو صحیح حالات ملنا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ضرور درخت بنے۔ اسی طرح درست عمل اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچ کر رہے۔

یاد رکھئے، امیدوں کا محل اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے ٹوٹتا ہے۔ اگر آپ خود چوکس ہوں تو کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ کتنی با معنی ہے یہ چیک کہاوت ـــــــــ "بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہوتی ہے جو ہم خود اس کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ "

غصہ سے بچیے

ارسطو کا قول ہے "غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے اور شرمندگی پر ختم ہوتا ہے" اس کی وجہ یہ ہے کہ غصہ ایک نفسیاتی ہیجان کی حالت ہے اور ہیجان کی حالت میں جو کارروائی کی جائے اس میں کبھی اعتدال نہیں ہو سکتا۔ غیر معتدل حالت میں آدمی جب کوئی کارروائی کرتا ہے تو اعتدال پر آنے کے بعد اکثر اسے اس احساس سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔

امریکہ میں پولیس قانون کے نفاذ میں بہت مستعد رہتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص ٹرافک اصول کی خلاف ورزی کرے یا سڑک پر گندگی ڈالے تو فوراً اس پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک بار کسی سڑک پر ایک کار تیزی سے گزری۔ ڈرائیور مقررہ رفتار (۵۵ میل فی گھنٹہ) سے زیادہ تیز اپنی گاڑی چلا رہا تھا۔ امریکی پولیس نے اس کا پیچھا کیا۔ کافی دور جا کر اس نے اس کو پکڑا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ اتنے فاصلہ سے اس کا پیچھا کرتی آرہی ہے۔ چونکہ وہ مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلا رہا تھا اس لئے اس کو چاہئے کہ وہ قانون کے مطابق تیس ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ یہ سن کر موٹر سوار پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی۔ اس وقت اس کے ہاتھ میں جلتا ہوا سگریٹ تھا۔ اس نے اظہار بیزاری میں سگریٹ سڑک پر پھینک دیا۔ پولیس کے آدمی نے فوراً کہا : جناب عالی، اب آپ مزید پچاس ڈالراس کوڑا ڈالنے (Littering) کے بھی ادا کیجئے ـــــــــ آدمی نے فوراً جرمانہ ادا کیا ہوتا تو وہ ۳۰ ڈالر میں چھوٹ جاتا۔ مگر اس کے غصہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمانہ کی رقم بڑھ کر ۸۰ ڈالر ہوگئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page