غصہ سے بچیے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۴
"غلطی کے بعد بہترین صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کرلے،" کسی کا یہ قول بہت با معنی ہے۔ آدمی اگر فوراً اپنی غلطی کو مان لے تو وہ سستا چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اگراس نے غلطی کو ماننے میں دیر کی یا غصہ میں کوئی اور غلطی کر ڈالی تو یہ صرف اس کے جرم میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا اور اس کے اوپر لگنے والی "جرمانہ" کی رقم بڑھتی چلی جائے گی۔
جرم اگر بالکل کھلا ہوا ہو تو اس کا اعتراف نہ کرنا ڈھٹائی بن جاتا ہے، اور ڈھٹائی تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اور اگر آدمی ایسا کرے کہ جرم کی نشان دہی کرنے والے سے لڑنے لگے تو وہ اپنے بچاؤ کے آخری موقع کو بھی کھودے گا۔ اس کی طرف سے قصور کا اعتراف نہ کرنا فریقِ ثانی کے اندر مزید ردِ عمل پیدا کرے گا اور وہ قصور وار کو اس سے زیادہ سخت سزا دینے پر اتر آئے گا جو ابتداءً وہ اس کو دینا چاہتا تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے "صابن کپڑے کے میل کو صاف کرتا ہے اور اعترافِ اخلاق کے میل کو۔ "
اپنی غلطی کا اعتراف مسئلہ کو فوری طور پر ختم کرنے کی سب سے آسان تدبیر ہے۔ ایک فریق جب نرمی سے اپنی غلطی کو مان لے تو دوسرا فریق بھی فوراً نرم پڑ جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف دوسرے شخص کے غصہ پر ٹھنڈا پانی ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
ایک دکاندار نے محلہ کے ایک نوجوان شخص پر چوری کا الزام لگایا۔ یہ الزام غلط تھا۔ نوجوان کو سخت غصہ آیا۔ اس نے دکاندار کا گریبان کھینچا اور اس کو پکڑ کر مارنا شروع کیا۔ اس کے بعد بات بڑھی۔ محلہ میں کافی شور و غل ہوا۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکی دیتے اور زور دکھاتے رہے۔ نوجوان کے آدمیوں نے اس سے کہا کہ تم معافی مانگ لو۔ مگر وہ کسی طرح معافی مانگنے پر تیار نہ ہوا۔ اگلے روز دوبارہ لوگ جمع ہوئے اور یہی بات شروع ہوئی۔ نوجوان کسی حال میں معافی مانگنے کے لئے تیار نہ تھا۔ آخر دکاندار اٹھا۔ وہ عمر میں کافی زیادہ تھا۔ اس نے بڑھ کر نوجوان کو اپنے سینہ سے لگا لیا۔ اس نے کہا "اگر تم معافی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہو تو چلو میں ہی تم سے معافی مانگتا ہوں، اس قصہ کو ختم کرو"
اس کے بعد نوجوان ڈھ پڑا۔ دکاندار نے خود ٹھیک کر نوجوان کو بھی جھکا دیا۔ نوجوان اچانک دکاندار کے قدموں میں گر پڑا۔ اس نے کہا "آپ معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں۔ آپ میرے لئے باپ کے برابر ہیں۔ اصلی قصور میرا ہے۔ آپ مجھے معاف کر دیجئے"
بہت کم لوگ ہیں جو غصہ آنے کے بعد غصہ کے انجام سے بچتے ہوں۔ حالاں کہ غصہ کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا آسان بھی ہے اور ممکن بھی۔ غصہ کوئی مستقل حالت نہیں۔ وہ خارجی اسباب کے تحت وقتی طور پر آدمی کے اوپر طاری ہوتا ہے۔ اور جو چیز وقتی اور خارجی نوعیت کی ہو اس کو دور کرنا اتنا ہی آسان
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues