آہ یہ انسان
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳
آہ یہ انسان
آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اور طاقت یں۔ حالانکہ موت ہر روز بتا رہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہے جس کے مقابلہ میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔ انسان کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ با اختیار سمجھتا ہے۔
آدمی وعدہ کرتا ہے مگر اس کے بعد اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ دوسرے کے اوپر ایک طرفہ الزام لگاتا ہے اور اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ چھوٹوں کو نظر انداز کر کے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔ وہ زور آور سے دبتا ہے اور بے زور کو ستاتا ہے۔ وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو مرکز نہ توجہ بناتا ہے۔ وہ جنت کے اشتیاق اور جہنم کے اندیشہ میں جینے کے بجائے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشوں میں جیتا ہے۔
آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے وہ اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جا رہا ہے اور اپنے آپ کو جنت کے لئے نا اہل ثابت کر رہا ہے۔ آہ وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق کرنا چاہئے۔ آہ وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اسے سب سے زیادہ خوف کرنے کی ضرورت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues