Al-Risala · April 1982 · page 12

آدمی اگر جانے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲

آدمی اگر جانے

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں جس طرح ہدایت مواقع رکھے گئے ہیں اسی طرح گمراہی کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ جس رخ پر چاہے چلے۔ وہ مواقع کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اپنی قوتوں کو جس کام میں چاہے لگائے۔ مگر یہ سب محض وقتی ہے نہ کہ مستقل۔

یہاں جو شخص حق کی آواز کو رد کرنا چاہے اس کو بآسانی ایسے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں جن کو بول کر کے وہ اپنے آپ کو جھوٹے یقین میں مبتلا کرلے۔ یہاں دین کی سچی دعوت کو نظر انداز کرکے بھی آدمی ایسے در و دیوار پالیتا ہے جس کے سایہ میں وہ پناہ لے سکے۔ یہاں خدا کی پکار کی طرف سے اپنے کانوں کو بند کرکے بھی ایسی چٹانیں مل جاتی ہیں جو کسی کو یہ تسکین دے سکیں کہ اس نے اپنے لئے ایک مضبوط سہارا دریافت کر لیا۔ مگر جب پردہ ہٹے گا تو یہ چیزیں اتنی بے معنی ثابت ہوں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ بلند ہوگی اور کائنات کا مالک اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا تو آدمی اتنا بے بس ہوگا کہ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ ان تمام باتوں کو مان لے جن کو ماننے کے لئے وہ پہلے تیار نہ ہوتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر آنے والے دن کی ہولناکی کو جانے تو اس کی چلتی ہوئی زبان بند ہو جائے جس کے الفاظ کا ذخیرہ آج کسی طرح ختم ہونے والا نظر نہیں آتا۔ اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ رک جائیں جس کو اخلاق اور انسانیت کا ہر وعظ روکنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page