خدا کا سایہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۲۳
خدا کا سایہ
وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ عمل کے نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے وہ بے عملی کی بدترین شکل تھی۔ لوگ اپنے آپ کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے حالانکہ ان کے لئے فخر کی بات یہ تھی کہ وہ خدا کی اس دنیا میں اپنے آپ کو جھکا دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی تاویل کو کامیابی سمجھتے رہے حالانکہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں۔ ان کو زبان اس لئے دی گئی تھی کہ اس کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں مگر وہ اپنی زبان کو انسانوں کی تعریف میں استعمال کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف و محبت کے جذبات اس لئے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو اپنے رب کے لئے وقف کر دیں۔ مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنائے رہے۔ انھوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا حالانکہ ان کے لئے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں مگر وہ کمزوروں کو نظر انداز کر کے طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے۔ ان کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معانی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں مگر وہ شور و غل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مشغول رہے۔ ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے والے بنیں مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں لگے رہے۔ ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے اور اپنے آپ کو اس کے اندر پا کر مطمئن ہے۔ مگر قیامت ایسے تمام گھر ندوں کو توڑ دے گی۔ اس وقت صرف وہ شخص محفوظ ہو گا جو خدا کے گھر میں پناہ پکڑے ہوئے تھا، جس نے اپنے لئے خدا کا سایہ حاصل کر لیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues