Al-Risala · April 1982 · page 24

قبر کا دروازہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴

قبر کا دروازہ

قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ اس دروازہ کے ذریعہ آدمی آج کی دنیا سے نکل کر کل کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جو آج قبر کے اِس پار ہے وہ کل اپنے آپ کو قبر کے اُس پار پائے گا۔ ہر شخص جو زندہ ہے وہ موت کے مقابلے میں اِس طرح شکست کھانے والا ہے کہ کوئی نہ ہوگا جو اس کو بچا سکے۔ مگر اس سب سے بڑی حقیقت کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے۔

ہم میں سے ہر ایک نے یہ منظر دیکھا ہے کہ کسی شخص کے لئے یہ دروازہ کھلا اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کے اوپر بند ہو گیا۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ خود ان کے لئے بھی یہ دروازہ ایک دن کھولا جائے گا اور پھر اسی طرح ان کے اوپر بند کیا جائے گا جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔ آدمی کی یہ نفسیات بھی کیسی عجیب ہے کہ دوسروں کو وہ ہر روز مرتے ہوئے دیکھتا ہے مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے، اس کے اپنے لئے موت کا وقت کبھی آنے والا نہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ ایک ایک کر کے روزانہ خدا کے یہاں پیشی کے لئے بلائے جا رہے ہیں۔ مگر خود اپنے کو اس طرح الگ کر لیتا ہے گویا عدالتِ الٰہی میں حاضری کا یہ دن اس کے اپنے لئے کبھی نہیں آئے گا۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہے۔ یہ احساس اگر زندہ ہو تو آدمی ہر موت کو اپنی موت سمجھے۔ وہ دوسرے کا جنازہ دیکھے تو اس کو ایسا معلوم ہو گویا خود اس کی لاش اٹھا کر قبر کی طرف لے جائی جا رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page