موت کی یاد
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۲۸
موت کی یاد
آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرارہے ہیں۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہوگا جو اُن کی باتوں کو سنے، کوئی پریس نہ ہوگا جو ان کی چیزوں کو چھاپے، کوئی لاؤڈ اسپیکر نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو فضا میں بکھیرے۔ ان کی خوش خیالیوں کا محل گر چکا ہوگا۔ وہ حسرت اور مایوسی کے عالم میں چاروں طرف دیکھیں گے اور کچھ نہ کر سکیں گے۔ آدمی اگر صرف موت کو یاد کرے تو اس کے لئے وہ تمام چیزیں بالکل بے حقیقت ہو جائیں جن کی خاطر وہ ظلم اور بے انصافی کرتا ہے اور اپنے لئے جہنم کی آگ میں جلنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ جس مال کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے وہ اس کو برت نہیں پاتا کہ موت آ جاتی ہے اور اس کو اس کے کمائے ہوئے مال سے جدا کر دیتی ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو یاد رکھے تو وہ مال کے پیچھے اپنے کو دیوانہ نہ بنائے۔ آدمی کو کسی سے شکایت ہوتی ہے، وہ اس کو مٹانے میں لگ جاتا ہے۔ مگر ابھی وہ اپنے تخریبی منصوبہ کو پورا نہیں کر پاتا کہ موت اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان حائل ہو جاتی ہے ۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے ذہن میں تازہ ہو تو وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے ۔ کبھی کسی کو بے عزت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے ۔
ایسا گھر جو کل کے دن جل جانے والا ہو اس کو کوئی نہیں خریدتا۔ ایسا شہر جو اگلے لمحہ بھونچال کی زد میں آنے والا ہو اس میں کوئی آباد نہیں ہوتا۔ مگر عجیب بات ہے کہ موت کے عظیم تر بھونچال کے معاملہ میں ہر آدمی یہی غلطی کر رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues