سب سے بڑا بھونچال
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۳۷
سب سے بڑا بھونچال
بھونچال خدا کی ایک نشانی ہے۔ بھونچال جب آتا ہے تو وہ تمام دنیوی بھروسوں کو باطل ثابت کر دیتا ہے۔ بھونچال کے لئے پکے محل اور کچی جھونپڑیوں میں کوئی فرق نہیں ۔ طاقت ور اور کمزور دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں۔ وہ بے سہارا لوگوں کو بھی اسی طرح تہس نہس کر دیتا ہے جس طرح ان لوگوں کو جو مضبوط سہارا پکڑے ہوئے ہیں۔ بھونچال پیشگی طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالآخر ہر ایک کے لئے کیا ہونے والا ہے۔ بھونچال ایک قسم کی چھوٹی قیامت ہے جو بڑی قیامت کا پتہ دیتی ہے۔ جب ہولناک گڑ گڑاہٹ لوگوں کے اوسان خطا کر دیتی ہے۔ جب مکانات تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگتے ہیں ۔ جب زمین کا نچلا حصہ اوپر آجاتا ہے اور جو اوپر تھا وہ نیچے دفن ہو جاتا ہے ۔ اس وقت انسان جان لیتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے ۔ اس کے لئے صرف یہ مقدر ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنی بربادی کا تماشہ دیکھے اور اس کو روکنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔
قیامت کا بھونچال موجودہ بھونچال سے بے حساب گنا زیادہ ہوگا ۔ اس وقت سارے سہارے ٹوٹ جائیں گے ۔ ہر آدمی اپنی ہوشیاری بھول جائے گا۔ عظمت کے تمام منارے اس طرح گر چکے ہوں گے کہ ان کا کہیں وجود نہ ہوگا ۔ اس دن وہی سہارے نالا ہوگا جس نے موجودہ چیزوں کو بے سہارا سمجھا تھا۔ اس دن وہی کامیاب ہوگا جس نے اس وقت خدا کو اپنایا تھا جب سارے لوگ خدا کو بھول کر دوسری دوسری چھتریوں کے نیچے پناہ لئے ہوئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues