موت کے کنارے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۳۸
موت کے کنارے
ہر آدمی چل رہا ہے۔ ہر آدمی کا چلنا موت پر ختم ہوتا ہے۔ موت کسی کے جنت کا دروازہ ہے اور کسی کے جہنم کا دروازہ ۔ وہ آدمی بڑا خوش قسمت ہے جس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اپنے کو جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا پائے۔ کیونکہ اس کے بعد وہ ایسی دنیا میں ہوگا جہاں ابدی خوشیاں ہیں۔ اس کے بعد اس کے لئے نہ کوئی رنج ہے اور نہ کوئی ڈر۔ اس کے برعکس جس آدمی کی موت اس کو جہنم کے دروازہ پر پہنچائے اس کی بدبختی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ کیونکہ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں گھرا ہوا پائے گا جہاں کھرب ہاکھرب سال سے بھی زیادہ مدت تک اس کو اس طرح رہنا ہوگا کہ وہاں اس کے لئے آگ اور دھوئیں کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
کل کی جنت میں اس آدمی کو داخلہ ملے گا جو آج خدا کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے جھک جائے۔ جو آج حق پسند اور خیر خواہ بن کر دوسرے انسانوں کے درمیان رہے۔
جہنم ان بد نصیب انسانوں کا قید خانہ ہے جو دنیا میں خدا کی بڑائی کو نہ مانیں ۔ جو اپنے معاملات میں بے انصافی کو چھوڑنا گوارا نہ کریں۔ جن سے خدا کے بندوں کو ظلم اور گھمنڈ کا تجربہ ہو نہ کہ تواضع اور انصاف کا۔
جنت اس شخص کے لئے ہے جو آج کی دنیا میں جنتی انسانوں کی طرح رہے۔ اور جہنم اس کے لئے ہے جو آج کی دنیا میں جنتی انسان بن کر رہنے پر راضی نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues