Al-Risala · April 1982 · page 40

خدا کی ترازو

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۴۰

خدا کی ترازو

امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک کے لئے آزادی ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو ستائے اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لئے نمایاں جگہ ملی ہوئی ہو۔ ایک شخص اپنی لیڈری کے لئے سرگرم ہو پھر بھی وہ مجاہد حق کے نام سے شہرت پائے۔ ایک شخص اپنے اہل معاملہ سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے اس کے باوجود امن وانصاف کے نام پر ہونے والے اجلاس میں اس کو صدارت کے لئے بلایا جائے۔ ایک شخص کی تنہائیاں اللہ کی یاد سے خالی ہوں مگر عوامی مقامات پر وہ اللہ کا جھنڈا اٹھانے والا سمجھا جاتا ہو۔ ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو پھر بھی اخبارات کی سرخیوں میں اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جارہا ہو۔ ایک شخص صرف قول کا کارنامہ دکھارہا ہو، پھر بھی کریڈٹ دینے والے اس کو عمل کا کریڈٹ دے رہے ہوں۔

ہر آدمی کی اصل حقیقت خدا کے علم میں ہے مگر دنیا میں وہ لوگوں کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص نہ اس کو ٹال سکتا اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچاسکتا۔ کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے کو خدا کی ترازو میں کھڑا کرلے۔ کیونکہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے اس کے لئے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

بنم

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page