Al-Risala · April 1982 · page 42

عدالت میں پیشی

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۴۲

عدالت میں پیشی

موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں ، وہ ہماری اصل زندگی کا آغاز نئے موت موت ہماری زندگی کا خامہ ہیں، وہ ہماری اس زندگی کا اعشار یہ ہے۔ موت دراصل کسی انسان کا وہ وقت ہے جب وہ مالک کائنات کی عدالت میں آخری فیصلہ کے رو اس کا .. لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔

موت سے پہلے آدمی کی بہت سے سر کام نظر آتے ہیں، نثار مو ت کے بعد آدمی کے کر سامنے موت سے پہلے ابدی تو بہت سے کام نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا ـــــــ یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے ۔ جب آدمی کے پاس بہت زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے۔ مگر جس شخص کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے۔ فیصلہ کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق یا غیر اہم کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کرتا ۔ موت کے معاملہ کی نزاکت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کے لئے آسکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب کے لئے ہوئی حمائے وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خط۔

سے بڑی بات جو لوگوں کو بنانے سے آگاہ کرے ۔ وہ کل سے یہ چاہتا ہے کہ وہ ہے وہ چاہتا ہے کہ وہ نہ ہو ے ۔ خطرے کے وقت کے لیے وہ تیار ہوتی ہے پہلے لوگوں کو کل کے بارے میں خبردار کردے ۔

اسلام کی دعوت کیا ہے، آخرت کی چیتاونی۔ یہ قبر کے اُس پار کے معاملات سے ۔ قبر کے اِس پاروالوں کو باخبر کرنا ہے۔ اسلام کا داعی موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہوتاہے۔ اس کو موت سے پہلے مرجانا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسری طرف کی دنیا کو دیکھے اور اِس بات کا بھی پتہ دیتا ہے کہ مُردوں کے احوال سے زندوں کو باخبر کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page