Al-Risala · April 1982 · page 43

سب سے بڑا حادثہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳

سب سے بڑا حادثہ

ہماری دنیا میں جو سب سے بڑا حادثہ پیش آرہا ہے وہ یہ کہ یہاں بسنے والے انسانوں میں سے تقریباً دس لاکھ آدمی ہر روز مرجاتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ موت کے فرشتے کل کے لئے جن دس لاکھ آدمیوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں اس میں اس زمین پر چلنے والوں میں سے کس کس کا نام ہو۔ ہم میں سے ہر شخص کو موت آنی ہے۔ مگر ہم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی اور جن لوگوں کے درمیان ہم زندگی گزار رہے ہیں ان کے متعلق بھی کچھ نہیں معلوم کہ ان میں سے کون کل اٹھایا جائے گا اور کون کل کے بعد سننے اور دیکھنے کے لئے باقی رہے گا۔

یہ آنے والا وقت ہم میں سے ہر شخص کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ ہر زندہ انسان اس خطرہ میں مبتلا ہے کہ کل اس کی موت آجائے اور اس کے بعد نہ اس کے لئے سننے کا موقع باقی رہے اور نہ ہمارے لئے سنانے کا۔

یہ صورت حال بتا رہی ہے کہ کرنے کا اصل کام کیا ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص آخرت کی فکر کرے اور دوسرے انسانوں کو زندگی کے اس حقیقی مسئلہ سے آگاہ کرے۔ دنیا کی آبادی اگر چار ارب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو چار ارب کام کرنے ہیں۔ کیوں کہ آج کا ہر آدمی حقیقت سے غافل ہے، ہر آدمی اس کا محتاج ہے کہ اس کو حقیقت کا علم پہنچایا جائے۔ کوئی بڑا طوفان ٹوٹنے والا ہو تو چھوٹی باتیں بھول جاتی ہیں۔ موت بلاشبہ سب سے بڑا طوفان ہے۔ اگر آدمی کو اس کا احساس ہو تو وہ سب سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے اور سب سے زیادہ موت کے بارے میں چرچا کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page