دعوتی ذمہ داری
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۴۵
دعوتی ذمہ داری
دنیا کا سیلاب اس لئے آتا ہے کہ وہ ہم کو قیامت کے زیادہ بڑے سیلاب کا نقشہ دکھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اسی طرح کا ایک بہت بڑا سیلاب ہے جیسا سیلاب ہر سال ہماری زمین پر آتا ہے اور بستیوں اور آبادیوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ یہ آنے والا سیلاب جب آئے گا تو ہمارے تمام حفاظتی بند ٹوٹ جائیں گے۔ وہ ہم کو اس طرح گھیرلے گا کہ پہاڑ کی چوٹیاں بھی اس کے مقابلہ میں ہم کو پناہ دینے سے عاجز رہیں گی۔ دنیا کے سیلاب میں وہی شخص بچتا ہے جس نے اس کے آنے سے پہلے اپنے لئے کشتیاں بنالی ہوں، اسی طرح آخرت کے سیلاب میں صرف وہ شخص بچے گا جس نے اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر دیا ہو۔ جو خدا کی کشتی میں سوار ہو گیا ہو۔ آج دنیا کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ قیامت کے آنے والے اس سیلاب سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ خدا نے اپنے پیغمبر اسی لئے بھیجے تاکہ وہ دنیا والوں کو اس آنے والے سیلاب سے خبردار کریں۔ تاکہ موت کے بعد جب خدا لوگوں کو پکڑے تو کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ ہم کو ایک ایسے معاملہ کے لئے پکڑا جارہا ہے جس کے بارے میں ہمیں اس سے پہلے کچھ بتایا نہیں گیا تھا۔
اب کوئی نبی آنے والا نہیں مگر یہ کام بدستور اپنی جگہ باقی ہے۔ ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ اسی خاص کام پر مامور ہے۔ اس کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قوموں کو اس سے باخبر کرے، قبل اس کے کہ خدا کا وہ سیلاب پھٹ پڑے اور پھر نہ کسی کے لئے خبر دار کرنے کا موقع ہو اور نہ کسی کے لئے خبردار ہونے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues